انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 121

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۲۱ آہ! نادر شاہ کہاں گیا اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ سرزمین کابل میں ایک تازہ نشان کا ظہور آہ! نادرشاہ کہاں گیا“ کابل کی سرزمین اس امر میں خصوصیت رکھتی ہے کہ سرزمین کا بل کی خصوصیت اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات اس میں پے در پے ظاہر ہورہے ہیں۔شاید ہندوستان کے بعد وہ دوسرا ملک ہے جس کے متعلق اس قدر کثرت سے اخبار غیبیہ اللہ تعالی کے مامور اور مُرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے شائع کرائی گئی ہیں۔حضرت مسیح موعود کی پہلی پیشگوئی ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی مجددیت بھی نہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شانانِ تُذبَحَانِے کا الہام کر کے کابل میں اُن دوخونوں کی خبر دی جو ناحق اور بلا سبب وہاں کئے جانے والے تھے۔یعنی اول مولوی عبدالرحمن صاحب شاگرد صاحبزاده عبد اللطیف صاحب شہید کا قتل اور پھر خود صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کا قتل۔دوسری پیشگوئی جب یہ پیشگوئی ۱۹۰۳ء کو تحمل کو پہنچ گئی تواللہ تعالی نے آئندہ کے متعلق پھر خبر دی کہ اب تین اور آدمی وہاں سلسلہ احمدیہ کے شہید کئے جائیں گے۔چنانچہ یکم جنوری ۱۹۰۶ ء کا الہام ہے: دو تین بکرے ذبح کئے جائیں گے، ۲ الہام ۱۹۲۴ ء میں آکر پورا ہوا جب کہ امیر امان اللہ خان صاحب کے عہد میں دوبارہ احمدیوں پر ظلم شروع ہوا اور پہلے جماعت احمدیہ کے مبلغ مولوی نعمت اللہ صاحب امیر امان اللہ خان کے حکم