انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 527

۵۲۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم رسول کریم ﷺ نے صحیح تمدن کی بنیاد رکھی ۶- نومبر کو سیرت النبی کا جلسہ جو قادیان میں ہوا اس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حسب ذیل تقریر فرمائی- تشہد ّو تعوّذ اور بسم اللہ کے بعد یہ آیات فرمائیں- یسج للہ ما فی السموت وما فی الارض الملک القدوس العزیز الحکیم ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمةوان کانوا من قبل لفی ضلل مبین و اخرین منھم لمایلحقوبھم وھوالعزیز الحکیم ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم- ۱؎ پیچش کی وجہ سے مجھے طبی اجازت تو نہیں تھی کہ اس موقع پر کچھ کہتا لیکن دنیا میں انسان ہر وقت دلیل کے تابع نہیں ہوتا بلکہ کبھی جذبات کے تابع بھی ہوتا ہے اور یہ جذبات اور عقل کا جال ایسے رنگ میں پھیلا ہوا ہے کہ اس میں صحیح امتیاز اور فرق کرنا بہت ہی مشکل ہے- پس میرے جذبات نے عقل کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اسے یہی جواب دیا کہ تیرے لئے ایسے حکم چلانے کے اور بہت سے مواقع ہیں آج ہمیں اپنا کام کرنے دو- تم اپنے لئے کوئی اور موقع تلاش کر لینا- اور اس میں شبہ کیا ہے کہ ایسے وجود کے ذکر کے موقع پر جس کی زندگی جہاں ایک طرف عقل و خرد کی بہترین مثال ہے وہاں اس کے ذریعہ جذبات کا بھی نہایت پاکیزہ طور پر ظہور ہوا اور یہ جذباتی تمثال ایسی ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ہر گز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است برجریدہ عالم دوام ما دنیا میں خالی عقل نے کبھی زندگی نہیں پائی- زندگی ہمیشہ عشق نے پائی ہے‘ جذبات نے