انوارالعلوم (جلد 12) — Page 522
۵۲۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی شروع تھا- ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا- غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت لکھا ہے کہ انھا سئلت عن النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ماکان یصنع فی بیتہ قالت کان یکون فی مھنة اھلہ تعنی فی خدمة اھلہ فاذا حضرت الصلوہ خرج الی الصلوة ۴؎ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے- آپ نے جواب دیا- کہ آپ اپنے اہل کی مہنت کرتے تھے- یعنی خدمت کرتے تھے- پس جب نماز کا وقت آ جاتا تو آپ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے- اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے- اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے‘ کیا بے نظیر نمونہ ہے‘ کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو- اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہوگا- کسی دوسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا- ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا- ایسے بھی ہونگے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے- مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا- یہ بات آنحضرت ﷺ اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی- جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں- جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے- مگر ملک عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت