انوارالعلوم (جلد 12) — Page 389
۳۸۹ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۱ء بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریر ۱۹۳۱ء (فرمودہ ۲۶ دسمبر ۱۹۳۱ء) بہترین افتتاح ایک مذہبی مجلس کا الہی کلام سے ہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا اور انابت اور تعبد اور عجز کے ذریعہ ہو سکتا ہے- قرآن کریم کی تلاوت تو مولوی غلام محمد صاحب نے فرمائی ہے- اس کے بعد میں چاہتا ہوں دوست مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو بابرکت بنائے- ہماری نیتوں اور اعمال کو اپنے منشاء کے مطابق چلائے اور اپنے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت ڈالے- پھر جو احباب شریک جلسہ ہوئے اور ہو سکے ہیں ان پر اپنا فضل نازل کرے اور جو نہیں شریک ہو سکے ان پر بھی فضل کرے- یعنی جماعت کے وہ دوست جو کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں آئے ان پر فضل کرے اور وہ لوگ جو باوجود توفیق کے اپنی سستی کی وجہ سے شامل نہیں ہوئے ان پر بھی- اس کے بعد دعا ہوئی اور پھر حضور نے فرمایا- دعا کے بعد میں دوستوں کو اس امر کے متعلق نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے دوست ایسے ہیں جنہیں علیحدہ علیحدہ رہنے کی وجہ سے سال بھر میں اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی باتیں سننے کا موقع نہیں ملتا اور جنہیں دوسرے اوقات میں موقع ملتا ہے انہیں بھی اتنی کثرت سے نہیں ملتا کہ روحانی پیاس بجھانے کیلئے جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ میسر آ جائے- اس کے علاوہ یہ جلسہ شعائراللہ میں سے ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس میں صحیح طور پر شمولیت‘ برکات اور انوار الہی کا موجب ہے اور اس میں نقص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور روحانی زنگ کا موجب ہے ۱؎ اس لئے میں تمام دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جلسہ کے ایام میں جہاں تک ہو سکے اپنے اوقات کو صحیح طور پر استعمال کریں اور جو دوست ان