انوارالعلوم (جلد 12) — Page 351
۳۵۱ نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم نبی کریم ﷺ کے پانچ عظیم الشان اوصاف (فرمودہ ۸- نومبر ۱۹۳۱ء برموقع جلسہ سیرۃ النبی بمقام لاہور) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا- مجھے کئی دن سے بخار اور نزلہ کی شکایت ہے اور بیماری کی وجہ سے میں یہ خیال کرتا تھا کہ آج لاہور میں اس مقدس مضمون کے متعلق جو میرے نزدیک نہ صرف مسلمانوں کیلئے مقدس اور ضروری ہے بلکہ تمام دنیا کیلئے اور تمام مذاہب کیلئے مفید اور بابرکت ہے کچھ بیان نہ کر سکوں گا- لیکن بعض حالات ایسے پیدا ہو گئے کہ میں نے مناسب سمجھا‘ خواہ گلے کی تکلیف اور بخار کی شکایت ہو‘ تھوڑا بہت بلند یا پست آواز سے جس قدر بول سکوں بولوں اور اپنے صوبہ کے مرکز میں اس تحریک کے متعلق جس کی ابتداء میں نے کی ہے‘ کچھ بیان کروں اور بتاؤں کہ اس کا اصل مقصد کیا ہے- میں مختلف جماعتوں کی نظر میں اس اعتراض کے نیچے ہوں کہ بہت سے فتنے جو ملک میں پیدا ہوئے‘ ان کی تحریک مجھ سے ہوئی ہے- اسلام کی تعلیم بھی یہی ہے اور یوں بھی آج کل حریت کا زمانہ ہے اس لئے ہر شخص آزاد ہے کہ جو عقیدہ یا رائے چاہے رکھے اس لئے جو لوگ یہ خیال رکھتے ہیں جب تک ان کی تسلی نہ ہو جائے‘ ان کا حق ہے کہ اپنے خیال پر قائم رہیں- مگر جس طرح وہ آزاد ہیں کہ میری نیت کے متعلق جو رائے چاہیں قائم کریں اسی طرح میرا بھی حق ہے کہ جس بات کو حق سمجھوں اس کے مطابق عمل کروں- پچھلے چند سالوں میں میں نے دیکھا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اس قدر خراب ہو گئے ہیں کہ اب ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں پر بھی حملے کئے جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جہاں دینی تعلقات خراب ہوتے ہیں وہاں دنیوی تعلقات بھی منقطع ہو جاتے ہیں- میں نے اس صورت حالات پر غور کیا کہ کیا ایسی