انوارالعلوم (جلد 12) — Page 224
۲۲۴ کشمیر کی ریاست میں ایک لمبے عرصہ سے عملاً ہندوؤں کو ہی حکومت میں حصہ دیا جاتا ہے- مسلمان بہت کم اور النادر کالمعدوم کی حیثیت میں ہیں- حالانکہ ان کی آبادی ستانوے فیصد ہے- نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو انتظامی اور قانونی دونوں شکنجوں میں اس طرح کس دیا گیا ہے کہ وہ ترقی نہیں کر سکتے- ایک لمبے عرصہ تک صبر کرنے کے بعد اب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے بالکل جائز طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ شروع کیا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت ہند اس بارہ میں ان کی امداد کرے گی- اسی غرض کے پورا کرنے کے لئے جو کمیشن مقرر کیا گیا ہے- ہمیں افسوس ہے کہ اس میں مسلمانوں کی نہ تو صحیح نمائندگی ہے اور نہ کافی نمائندگی ہے‘ اس کا تدارک ہونا چاہئے- مگر صرف اسی قدر اصلاح سے کام نہیں چلے گا- چاہئے کہ کشمیر کے مسلم لیڈروں کو آزاد کر کے اس مشورہ میں شریک کیا جائے اور دوسرے سیاسی قیدیوں کو بھی رہا کر کے فضاء صاف کی جائے- موجودہ فسادات میں جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں‘ اس پر مسلمانوں میں بے چینی ہے ریاست کے افسر جس پر خود الزام ہے‘ آزاد تحقیقات نہیں کر سکتے اس لئے ریاست کے باہر سے قابل اعتماد جج بلوا کر مقدمات ان کے سامنے پیش کرنے چاہئیں- ہمیں مختلف ذرائع سے رپورٹیں ملی ہیں کہ بعض حکام نے سخت مظالم کئے ہیں اور فسادات کو اپنے بغض نکالنے کا ذریعہ بنا لیا ہے اور اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا ہے کہ کھڑی کے علاقہ سے ہزاروں آدمی نکل کر انگریزی علاقہ میں چلے آئے ہیں‘ اس کا علاج ہونا چاہئے- جس کے لئے ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ فوراً وہاں سے ان افسروں کو جن کے خلاف مسلمانوں کو شکایت ہے تبدیل کر دیا جائے اور ایک آزاد تحقیقات ان کے افعال کے متعلق کرائی جائے- اس بارہ میں خصوصیت سے کشمیر‘ کوٹلی‘ راجوری اور تحصیل مینڈر‘ پونچھ کے افسر قابل ذکر ہیں- ہم درخواست کرتے ہیں کہ کشمیر میں ہمیشہ سردیوں میں مسلمان گورنر اور مسلمان یا انگریز افسر پولیس رہنا چاہئے- مہاراجہ صاحب کی وزارت میں کم سے کم دو مسلمان وزراء جن پر مسلمانوں کو اعتبار ہونے چاہئیں- مسلمان موجودہ مسلمان وزیر کے خلاف سخت مشتعل ہیں کیونکہ وہ ہر گز مسلمانوں کے فوائد کی حفاظت نہیں کر سکتے-