انوارالعلوم (جلد 12) — Page 148
۱۴۸ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک اخبار کا تو زور توڑ دیا ہے اور دوسرا اخبار انشاء اللہ ان کے ہاتھ فروخت نہیں ہو سکے گا- مسلمانوں کا زور توڑنے کی تدابیر مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مسلمانوں کا زور توڑنے کے لئے ریاست کے ایماء پر یا اپنے طور پر کچھ اور تدابیر بھی اختیار کی جا رہی ہیں- جن میں سے بعض یہ ہیں- مخالفانہ تدابیر (۱) کشمیری مال کا بائیکاٹ کر کے- تمام پنجاب میں اندر ہی اندر یہ تحریک کی جا رہی ہے کہ کشمیری مال چونکہ بدیشی تاگہ یا بدیشی کپڑا سے تیار ہوتا ہے اس لئے اس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے- یہ جواب ہے بعض مسلمانوں کی اس تحریک کا کہ ریاستی کارخانہ کے ریشم کو نہ خریدا جائے- (۲) ریاست کے تعمیری پروگرام کو بند کر کے- تا کہ مسلمان ٹھیکیدار معطل ہو جائیں اور مالی نقصان اٹھائیں- (۳) مسلمان کاریگروں کا بائیکاٹ کر کے- مخالفانہ تدابیر کا جواب دینے کی ضرورت یہ سب کام اس طرح ہو رہے ہیں کہ ان میں ریاست کا ہاتھ نظر نہ آئے لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریاست اس میں شامل ہے- اور اس کا جواب دینے کی مسلمانوں کو ضررت ہے- (۱) کشمیری مال جو مسلمانوں کا تیار کردہ خرید کر (۲) بیکار مزدوروں اور کاریگروں کو کام دے کر (۳) خصوصیت کے ساتھ ان کارخانوں کا مال بند کر کے جو ان ہندو افسروں کی ملکیت ہیں جو اس کام میں نمایاں ہیں- مثال کے طور پر میں دیکھتا ہوں کہ کول خاندان کی بنائی ہوئی دیا سلائیاں پنجاب میں کثرت سے بکتی ہیں- اگر مسلمان ان کو خریدنا بند کر دیں تو اس سے ان کارخانہ داروں کو معلوم ہو جائے گا کہ بائیکاٹ کی تلوار دو دھاری ہوتی ہے اور صرف ایک ہی طرف نہیں کاٹتی- میں امید کرتا ہوں کہ مختلف شہروں کے پر جوش مسلمان اور مسلمان دوکاندار ان امور کو اپنے ہاتھ میں لیں گے کیونکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اس قسم کے کام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی کیونکہ اس کی توجہ تعمیری اور اصلی کام سے ہٹ کر دوسری طرف لگ جاتی ہے- انکوائری کمیٹی ایک اہم نقص موجودہ کام میں یہ ہو رہا ہے کہ اہالیاں کشمیر کی طرف سے کوئی انتظام مسلمانوں کی تکالیف کی تحقیق کے متعلق نہیں ہے- اس کا نتیجہ