انوارالعلوم (جلد 12) — Page 102
۱۰۲ حکمرانوں نے کشمیر کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ انگریزوں نے اسے ان کے ہاتھ ایک حقیر سی رقم کے بدلے فروخت کر دیا تھا- لہذا وہاں جو کچھ ہو رہا ہے‘ حکومت برطانیہ بھی اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی- مزید برآں ریاست آخر کار برطانیہ کے ماتحت ہے اور موجودہ حکمران جو محض ایک چیف تھا‘ ریاست اور اختیارات کے لئے حکومت برطانیہ کا ممنون احسان ہے اس لئے حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ کشمیر کے بے بس مسلمانوں کی شکایات کے ازالہ کے لئے جو کچھ کر سکتی ہے کرنے سے دریغ نہ کرے- کشمیر کی اپنی علیحدہ زبان ہے اور اس کا تمدن اور مذہب وغیرہ جموں سے بالکل جداگانہ ہے- اس لئے ڈوگرا وزراء سے کشمیری مسلمانوں کے حق میں کسی بہتری کی توقع نہیں ہو سکتی اور انہیں اس وقت تک امن حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ان کی اپنی وزارت کے ذریعہ مہاراجہ جموں ان پر حکومت نہ کریں- لہذا انسانیت کے نام پر میں یورایکسیلنسی سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ آپ کشمیر کے لاکھوں غریب مسلمانوں کو جنہیں برٹش گورنمنٹ نے چند سکوں کے عوض غلام بنا دیا‘ ان مظالم سے بچائیں تا کہ ترقی اور آزاد خیالی کے موجودہ زمانہ کے چہرہ سے یہ سیاہ داغ دور ہو سکے- کشمیر بے شک ایک ریاست ہے مگر اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ ناانصافی سے پنجاب سے علیحدہ کیا گیا ہے اور دوسرے صوبہ جات کے مسلمانوں کی طرح پنجاب کے مسلمان کشمیری مسلمانوں پر ان مظالم کو کسی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے اگر حکومت ہند اس میں مداخلت نہ کرے گی تو مجھے خطرہ ہے مسلمان اس انتہائی ظلم و ستم کو برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوئے گول میز کانفرنس میں شمولیت سے انکار نہ کر دیں اور انتہائی مایوسی کے عالم میں کانگریسی رو میں نہ بہہ جائیں- (الفضل ۱۸- جولائی ۱۹۳۱ء)