انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 57

۵۷ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلي على رسؤله الكريم مستورات سے خطاب (فرموده ۲۸ دسمبر۱۹۲۹ء بر موقع جلسہ سالانہ) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: عورتوں کی موجودہ علمی قابلیت میں نے ہر سال جماعت کی مستورات کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ جب تک تعلیم نہ ہو خدا سے ان کا اپنا معاملہ درست نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ ذمہ داریاں پوری ہو سکتی ہیں جو اپنے رشتہ داروں اور خاندان اور اپنی قوم اور ملک کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں- شاید یہ الفاظ جو اس وقت میں نے بیان کئے ہیں آپ کو بوجھل معلوم ہوتے ہوں کیونکہ ان میں یہ کہا گیا ہے کہ تم میں تعلیم نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک تم دوسری زبانیں تو درکنار خود اپنی زبان سے بھی ناواقف ہو مجھے عورتوں میں تقریر کرتے وقت یہ دقت پیش آتی ہے- تقریر میں مشکلات میں کوشش کرتا ہوں کہ میری تقریر میں ایسے الفاظ نہ آئیں جن کو تم سمجھ نہ سکو حالانکہ میں کسی غیر زبان میں تقریر نہیں کیا کرتا- جب قوم کی ایسی گری ہوئی حالت ہو کہ وہ اپنے ملک کی زبان میں بھی بات سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتی ہو تو اس کی کمزور حالت کا اندازہ اس سے ہی ہو سکتا ہے- تقریر میں روز مرہ ہی کی زبان ہوتی ہے- مثلاً اگر دین کا ذکر آئے تو اس میں قیامت، تقدیر وغیرہ کے الفاظ ضروری ہیں- پھر جو نہ سمجھے تو واعظ کے لئے کتنی مشکلات ہیں- اس کی دو ہی صورتیں رہ جاتی ہیں- یا تو وہ آسان آسان لفظ لا کر عام فہم طریق کے لفظوں ہی کے خیال میں پڑا رہے اور اپنے مضمون کو خراب کر لے یا اصطلاحی لفظ استعمال کر کے اپنے مضمون کو تو ادا کر دے مگر سامعین اس کو نہ سمجھ سکیں- پس ہر