انوارالعلوم (جلد 11) — Page 37
۳۷ کرنے ہیں- یہ اصل ہے جس کے ماتحت ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہئے- عجیب بات ہے کہ میں اپنے خط میں جو لیڈروں کے نام لکھا- جن الفاظ میں انہیں مخاطب کیا، وہی آج سے پچاس سال قبل گورنر جنرل لکھ چکا ہے- جنہیں میں نے بعد میں دیکھا- ملتان کے کمشنر نے حکومت سے دریافت کیا کہ مذبح کے متعلق کیا قوانین ہیں- اس کے جواب میں گورنر جنرل نے لکھا کہ اس میں اس حد تک روک ہونی چاہئے کہ ہندوؤں کی دل آزاری نہ ہو- اس جواب پر اس نے ملتان میں گوکشی بند کر دی- کیونکہ اس نے اس کے معنی یہی سمجھے کہ جہاں ہندوں ہوں وہاں چونکہ ان کی دلازاری ہوتی ہے، اس لئے گوکشی نہیں ہونی چاہئے اور اپنے اس فیصلہ سے لوکل گورنمنٹ کو اطلاع دی- جس نے اسے لکھا تمہارا یہ فیصلہ الفاظ کے خلاف معلوم ہوتا ہے- اور ساتھ ہی گورنر جنرل کو اطلاع دی کہ کمشنر ملتان کا یہ فیصلہ آپ کے الفاظ کے خلاف معلوم ہوتا ہے جس پر گورنر جنرل نے لکھا نہ صرف یہ کہ ہمارے الفاظ کا ہی خیال نہیں رکھا گیا بلکہ ان کی روح کے بھی خلاف ہے- گاؤمکشی مسلمانوں کا امتیازی نشان ہے اور اس کے بند کر دینے کے یہ معنی ہیں کہ اس ملک میں ہندوؤں کی حکومت ہے- اور مسلمان ان کے غلام ہیں- پس کمشنر ملتان کا یہ فیصلہ غلط ہے- اور گاؤکشی کی عام اجازت ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ غلامی کی بدترین قسم ہے- دیہات میں جو لوگ ڈرتے ہیں، وہ چونکہ کمزور ہیں- اگر وہ اسے برداشت کرتے ہیں تو کریں- نبیوں کی جماعتیں حُرّ ہوتی ہیں اور حریت پیدا کرنے آتی ہیں اس لئے ہم اسے قبول نہیں کرتے- میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس تعلیم نے کہ میری جماعت گورنمنٹ کی وفادار ہے- ہمیں غلامی سے بچالیا- لوگ ہمیں غلام کہتے ہیں لیکن حقیقت میں غلام وہ ہیں جو اطاعت کو فرض نہ سمجھتے ہوئے مجبوراً اطاعت کرتے ہیں- اور ہم مذہب کی پابندی میں ایسا کرتے ہیں- وگرنہ ہم اسے کبھی برداشت نہ کرتے- اور فوراً ہتھیار لیکر نکل کھڑے ہوتے- ہماری شریعت نے تو ایمان میں بھی غلامی کو جائز نہیں رکھا- بظاہر یہ کمزوری معلوم ہوتی ہے کہ ہم نے اس وقت کیوں سکھوں پر لٹھ نہیں چلایا- لیکن یہ بہت بہتر ہوا ہے کیونکہ جہاں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں- ہندو کہتے ہیں مسلمانوں نے ابتداء کی- لیکن یہاں ان کے ظلم کا خالص نمونہ نظر آ رہا ہے- اور ہندو لیڈر غصہ میں دانت پیس رہے ہیں کہ مسلمانوں نے کیوں مقابلہ نہیں کیا کیونکہ یہ ان کی تعدّی کا روشن ثبوت ہے- اور یہ واقعات بتاتے ہیں کہ