انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 580

۵۸۰ فضائل القرآن(نمبر ۳) کی ایک غرض اسلام نے یہ بتائی کہ تَثْبِیْتًا مِنْ اَنْفُسِھِمْ اس کے ذریعہ قوم مضبوط ہو جاتی ہے۔اسی طرح نیک لوگو ں کا ذکر کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ یعنی نیک وہ ہوتا ہے جو عَلٰی حُبِّہٖ مال دیتا رہے۔کتنے مختصر الفاظ ہیں۔لیکن ان میں نہایت وسیع مطالب بیان کئے گئے ہیں۔عَلٰی حُبِّہٖ کے معنے یہ ہیں کہ اول اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے۔چنانچہ پہلے اﷲ تعالیٰ کا ذکر موجود ہے۔گویا وہ مال دیتے ہیں اﷲ تعالیٰ کی رضا اور محبت کی خاطر۔انہیں اﷲ تعالیٰ کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اسکی مخلوق سے بھی محبت کرتے ہیں۔ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ چونکہ ہم خدا تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اس لئے ہم بھی ان سے محبت کریں۔۲۔حُبِّہٖ کی ضمیر اس شخص کی طرف بھی جاتی ہے جسے مال دیا جاتا ہے۔اس لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے جسے مال دیتے ہیں اسے ذلیل سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر دیتے ہیں۔وہ مال دیتے تو دوسرے کو ہی ہیں لیکن اسے ذلیل سمجھ کر نہیں بلکہ اس کا حق سمجھ کر دیتے ہیں۔اسے اپنا بھائی اور اپنا پیارا سمجھ کر دیتے ہیں۔۳۔حُبِّہٖ کی ضمیر مال دینے کی طرف بھی جاتی ہے۔اس لحاظ سے یہ معنے ہوئے کہ وہ مال دینے کی محبت کی وجہ سے دیتے ہیں۔کیونکہ انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں مال دینا انتہائی مرغوب ہوتا ہے۔وہ چٹی سمجھ کر نہیں دیتے بلکہ اس لئے دیتے ہیں کہ انہیں مال دینے سے ایک روحانی سرور اور ذوق حاصل ہوتا ہے۔اسی حُبِّہٖ کے متعلق دوسری جگہ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَاءِ ذِی الْقُرْبٰی ۳۲؂کہہ کر بتایا کہ ان کی محبت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم ماں باپ ہیں اور غریب اور محتاج لوگ ہمارے بچے ہیں۔جیسے ماں اپنے بچہ کو محبت سے دودھ پلاتی ہے نہ کہ کسی طمع سے اسی طرح یہ لوگ محتاجوں کو اپنا مال دیتے ہیں۔دودھ کیا ہوتاہے ماں کا خون ہوتا ہے۔مگر پھر بھی جن عورتوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا وہ کڑھتی رہتی ہیں۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہیں کوئی ایسا بچہ نہیں ملتا جسے وہ اپنا خون پلائیں۔تو فرمایا۔وہ لوگ مال دیتے دیتے اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ یہ نہیں سمجھتے کہ مال دے کر ہم کسی پر احسان کر رہے ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا احسان ہے جو ہم سے مال لیتے ہیں۔جیسے بچہ جب روٹھ جائے تو ماں اسے مناتی اور کہتی ہے ’’میں صدقے