انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 525

۵۲۵ ہے اور بھیڑیں لیٹی ہوئی ہیں گویا ذبح کرنی ہیں- جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے منتظر تھے کہ ان کو ذبح کریں- اس وقت کشفی طور پر آپ کو معلوم ہوا کہ بھیڑیں گناہگار انسان ہیں- پھر آواز آئی کہ قل مایعبوابکم ربی لو لا دعاء کم-۱۰؎ خدا سے دعا کرو کہ تمہاری سختیاں معاف ہوں گویا سخت سے سخت مشکلات کا حل دعا سے ہو سکتا ہے- اگر دعا نہ ہوتی تو انسان زندگی بالکل بے کیف رہتی- حضرت مسیح ناصری نے کیا لطیف فرمایا کہ ‘’انسان روٹی سے نہیں خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے’‘-۱۱؎ پس خدا کا علم اور اس کے بعد دعا انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اس کے بغیر تمہاری زندگیاں بیکار، تمھارے کام بے ثمر ہیں، یہ مت خیال کرو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہ خدا کو نہیں مانتے اور وہ پھر بھی بڑے خوش نصیب ہیں- یہ صحیح ہے مگر بادشاہت کوئی کامیابی نہیں- اگر کوئی اس پر گھمنڈ کرتا ہے تو اس کی بیوقوفی ہے- کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس طرح ایک کسمپرس چُوڑا جان کندنی یا تکلیفِ جسمانی کے وقت درد و کَرب سے کراہتا ہے اسی طرح ایک طاقت ور مگر خدا کو نہ ماننے والا بادشاہ بھی- نبیوں کی زندگی دیکھو کہ جن کو زمانہ کے شدو مد کی کچھ پروا نہیں، دکھو کا غم نہیں- مصائب میں سینہ سپر بھی ہیں بے فکر بھی- غرض ان کا دل اس طرح مطمئن ہے کہ تمام جہان کی بادشاہت حاصل کر کے ایک دنیاوی بادشاہ کو بھی نہیں ہو سکتا- وجہ یہ کہ دنیاوی بادشاہ کا بھروسہ اسباب مادی پر ہوتا ہے مگر خدا کے فرستادہ کا چونکہ خدا کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے پس وہ اپنے اس حامی کی حمایت میں ہر طرح بے فکر رہتا ہے- گو اس کے پاس مادی اسباب کی قلت ہو بلکہ نہ ہونے کے برابر- مگر اس کی مسرت اور اس کے اطمینان کو کوئی نہیں پا سکتا- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کونسی سلطنت یا طاقت تھی مگر آپ مصائب اور شدائد زمانہ سے بے فکر تھے- زار روس جو ایک نہایت بلند بادشاہ تھا اس کے متعلق آپ نے پیشگوئی فرمائی کہ وہ نہایت بے کسی کی حالت میں تباہ ہو گا- پھر اسی طرح ہوا- اب شہنشاہ زار کی پہلی قوت دیکھو پھر اس پیشگوئی کے بعد اس کے بعد بے کسی- پس معلوم ہوا کہ دنیا کے بادشاہوں کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی- وہ بالکل مردہ بدست زندہ کی مثال ہیں مگر خدا کے پیارے ہر طرح بااقتدار- ایک ولی بزرگ کا واقعہ ہے جو دہلی میں رہتے تھے بادشاہ ِ وقت ان سے ناراض ہو گیا-