انوارالعلوم (جلد 11) — Page 410
۴۱۰ کام لیکر فوجیوں کو کونسلوں میں بھیج سکتے ہیں- الگ فوجی ممبر مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- یہی حال مزدور ممبر کا ہے کافی طور پر مزدور ووٹر ہر ایک صوبہ میں موجود ہیں وہ اپنے ووٹ سے کام لے کر اپنے آدمی بھیج سکتے ہیں- یہ ایک ایسی بین بات ہے کہ خود سائمن کمیشن کے ایک ایسے ممبر نے جو مزدور پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس پر اعتراض کیا ہے اور نامزدگی کو اور مزدوروں کے مفاد کے خلاف بتایا ہے- اگر یہ حلقہ ہائے مخصوص اڑا دیئے جائیں تو توازن کا قائم رکھنا آسان ہو جاتا ہے- بنگال کے زمینداروں کے حلقے اور تجارتی حلقے اگر اڑا دیئے جائیں تو مختلف اقوام کو ان کی تعداد کے مطابق ووٹ دینا نسبتاً بہت آسان ہو جاتا ہے- اب ایک انگریزوں کا سوال رہ جاتا ہے- میرے نزدیک اس وجہ سے کہ اس وقت بوجہ حکومت سے ناراضگی کے ان کے خلاف خاص جوش ہے وہ اس امر کے مستحق ہیں کہ انہیں خاص نیابت ملے لیکن ان میں بھی تجارتی اور عام حلقوں کی تقسیم فضول ہے- جس قدر تعداد کہ انگریزی فوائد کی حفاظت کے لئے ضروری سمجھی جائے اس قدر تعداد ان کے لئے مقرر کر دی جائے- تاجر بھی اور دوسرے بھی اپنے اپنے اثر کے حلقے سے کھڑے ہو کر اپنی نیابت حاصل کر لیں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا- مگر ہمیں اس پر ضرور اعتراض ہے کہ انگریزوں کو خاص حصہ دینے کے لئے ایسے اصول ایجاد کئے جائیں جن کے ماتحت ہندوؤں کو بھی اپنے حق سے زائد لینے کا موقع مل جائے- جہاں تک میرا خیال ہے یہ فوائد صرف انگریزوں کی نیابت کو مضبوط کرنے کے لئے ایجاد کئے گئے ہیں لیکن اب مسلمان اس طریق کی مضرتوں سے آگاہ ہو چکے ہیں- وہ انگریزوں کے خاص حق پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے اور انگریزوں کے لئے جو خطرات ہیں ان کو دیکھ کر انہیں کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہئے- لیکن ایسے اصول تجویز کر کے انہیں حق نہ دیئے جائیں کہ ساتھ ہی مسلمانوں کے حق کا ایک ٹکڑا اسی اصل کے ماتحت ہندو بھی کاٹ لیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں پنجاب کی ممبریوں کی تقسیم عمدگی سے اس طرح ہو سکتی ہے کہ دو فیصدی حق نیابت انگریزوں اور اینگلو انڈینز (ANGLO INDIANS) کو دے دیا جائے- ان کے تجارتی اور دوسرے سب فوائد بھی اس میں شامل ہوں لیکن تجارت کے نام سے علیحدہ حق نہ دیا جائے- ایک سیٹ یونیورسٹی کو ملے لیکن شرط یہ کر دی جائے کہ ایک دفعہ ہندو یا سکھ ممبر ہو اور دوسری دفعہ مسلمان ممبر گو انتخاب مخلوط ہو- یا پھر یہ کیا جائے کہ دو نشستیں یونیورسٹی