انوارالعلوم (جلد 11) — Page 358
۳۵۸ سے محروم کرنا چاہا ہے- وہ لکھتا ہے کہ ایک پاؤڈر میگزین (POWDER MAGAZINE) میں کھڑا ہونے والا شخص اپنے لئے عمل کی آزادی کا مطالبہ کر کے سگریٹ نوشی کا لطف نہیں اٹھا سکتا- اس سرحد کے مقام کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے باشندے بھی دوسرے صوبوں کی طرح اختیارات نہیں مانگ سکتے- اول تو یہ مثال ہی غلط ہے- گن پاؤڈر میگزین میں جانے والا تو خود اس جگہ جاتا ہے لیکن یہاں تو آپ خود دوسرے کے گھر میں گن پاؤڈر کی میگزین بنا دیتے ہیں- آپ کو یہ اجازت کہاں سے حاصل ہوئی کہ کسی کے گھر میں جا کر بارود رکھ دیں اور پھر اس سے مطالبہ کریں کہ اب تم آگ نہ جلاؤ کہ ہمارے پاؤڈر کو آگ لگ جائے گی- صوبہ سرحد والے تو جواب دیں گے کہ یہ حالت تو آپ لوگوں کی اپنی پیدا کی ہوئی ہے ہمیں آزاد کر دو پھر دیکھو ہم اپنے وطن کا انتظام کر لیتے ہیں یا نہیں- دوسرے یہ امر دیکھنا چاہئے کہ صوبہ سرحدی کے فساد کا اصل باعث ہی اس صوبہ کو حقوق کا نہ ملنا ہے- سرحد کا پٹھان دیکھتا ہے کہ اس کا بھائی ڈیورنڈلائن سے پرے ایک پوری آزاد حکومت چلا رہا ہے اور اس سے ورے بھی ایک اندرونی طور پر آزاد حکومت حاصل ہے لیکن یہ اس کا رشتہ دار اور اس سے زیادہ تعلیم یافتہ اپنے گھر کا انتظام کرنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمیشہ اپنے آزاد علاقہ کے بھائیوں کو شورش پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور وہ لوگ بھی اس کی ہمدردی میں حکام سرحد کو تنگ کرتے رہتے ہیں- یہ کس طرح ممکن ہے کہ جب ان لوگوں کے دلوں میں بھی آزادی کا ولولہ اٹھنے لگے جو آزاد حکومتوں سے نہ مکانی قرب رکھتے ہیں اور نہ نسلی تو وہ لوگ جو آزاد حکومتوں کے ہمسایہ ہیں اور نسلا ان سے متحد ہیں حتیٰ کہ ان کی آپس میں کثرت سے شادیاں بھی ہوتی رہتی ہیں وہ آزادی کے جذبات سے خالی رہیں- اور پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ انہیں آزادی سے محروم کر کے امید کی جائے کہ وہ گن پاؤڈر کے خیال سے دیا سلائی نہ جلائیں- وہ تو ضرور دیا سلائی جلائیں گے تا کہ گن پاؤڈر اڑ جائے اور شاید اس طرح ان کے لئے آزادی کا راستہ کھل جائے- کمیشن جس نتیجہ پر صوبہ سرحدی کے متعلق پہنچا ہے وہ بالکل نرالا ہے- دنیا کی دوسری اقوام اپنے سرحدی قبائل کو خوش رکھنے کی کوشش کرتی ہیں تا کہ وہ ملک کے لئے بطور سپر کے کام دیں- لیکن کمیشن یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ انہیں دوسروں کی طرح حقوق نہ دیئے جائیں کیونکہ یہ سرحد پر ہیں- جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ ہیں کہ وہ کبھی مطمئن نہ ہوں اور