انوارالعلوم (جلد 11) — Page 303
۳۰۳ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا؟ غرض یہ عذر بالکل نامعقول ہے اور اصل بات یہی ہے کہ گائے کے سوال کو قوم کے جمع کرنے کا ایک ذریعہ بنایا گیا ہے- اس وجہ سے موحد اور گائے خور بھی اس امر پر جمع ہو جاتے ہیں بلکہ گائے خور اور موحد اس معاملہ میں دوسروں سے آگے رہتے ہیں اور گائے کی عبادت کرنے والوں کو بھڑکانے کا اصل موجب وہی ہوتے ہیں- اگر کمیشن اس حقیقت کو معلوم کرتا تو وہ کبھی ہندو مسلم سوال کو اس سرسری نگاہ سے نہ دیکھتا جس سے کہ اس نے دیکھا ہے اور کبھی ان حفاظتی تدابیر کو جو اس اختلاف کے خطرناکنتائج سے بچنے کے لئے مسلمانوں کی طرف سے پیش ہو رہی ہیں- اس طرح بغیر کافی توجہ دینے کے چھوڑ نہ دیتا- جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اقلیتوں اور اکثریت کا فیصلہ کرتے وقت ہمیں ان اصول کو مدنظر رکھنا چاہئے جو حکومت کے قیام کا باعث ہوتے ہیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں حکومت کا اصل مقصد یہ ہے-: ۱ افراد کو ایک دوسرے کے حقوق میں دخل اندازی سے روکنا- ۲ افراد اور جماعت اور ملک کو حکومت سے باہر کے لوگوں کی دست اندازی سے بچانا اور ان پر دست اندازی کرنے سے روکنا- ۳ ایسے ذرائع اختیار کرنا جو ملک کی مجموعی ترقی کا موجب ہوں- ۴ ان ذرائع کی تکمیل کیلئے ملک سے بحصہ رسدی بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹیکس وصول کرنا- ۵ ایسا انتظام کرنا کہ افراد یا حکومت کے خلاف قانون توڑنے والوں کے جرم کی صحیح طور پر اور انصاف سے تشخیص اور تعیین کی جا سکے- دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کی غرض یہ ہے کہ وہ افراد کے فائدے کیلئے (۱) قانون سازی کرے- (۲) قانون کا نفاذ کرے- (۳) قانون شکن کی ذمہ واری کی تعیین کر کے اسے سزا دے- یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ حکومت کی غرض عدل و انصاف سے کام کرنے والی (۱) لیجسلیٹو (۲) ایگزیکٹو (۳) اور قضاء کا قیام ہے- اس کے سوا حقیقی حکومت کی غرض اور کوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ حقیقی حکومت وہ ہے جو افراد کی مرضی سے قائم ہو اور کونسا فرد ہے جو یہ کہے گا کہ ایسی حکومت قائم کرو جو میرے