انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 218

۲۱۸ عرفان ِالہٰی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ تحریک پیش کی جا رہی ہے جو بہت معقول ہے اور میرا ارادہ ہے کہ دو تین سال کے بعد اس تحریک کے ماتحت بھی جلسے منعقد کرائے جائیں- وہ تحریک یہ ہے کہ ایک دن ایسا مقرر کیا جائے جو پرافٹ ڈے (PROPHETDAY) نہ ہو بلکہ پرافٹس ڈے (PROPHETSDAY) ہو- یعنی رسول کریم ﷺ کی ذات کے لئے ہی جلسے نہ منعقد کئے جائیں بلکہ تمام انبیاء کی شان کے اظہار کے لئے اس دن جلسے کئے جائیں- ایسے جلسوں میں ایک مسلمان کھڑا ہو جو رسول کریم ﷺ کی شان کے اظہار کی بجائے کسی دوسرے مذہب کے بانی کی خوبیاں بیان کرے- اسی طرح ایک عیسائی کھڑا ہو کر بجائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف و توصیف بیان کرنے کے حضرت بدھ علیہ السلام یا حضرت کرشن علیہ السلام کی خوبیاں بیان کرے- ایک ہندو کھڑا ہو کر بجائے حضرت کرشنؑ اور رام چندر جیؑ کے حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خوبیاں پیش کرے- ایک زرتشتی کھڑا ہو کر بجائے زرتشت کی خوبیاں بیان کرنے کے رسول کریم ﷺ کی خوبیاں بیان کرے- یہ ایک نہایت ہی معقول تجویز ہے- مگر فی الحال دقت یہ ہے کہ اگر ایک ادھورے کام میں دوسرا کام شروع کر دیا جائے تو پہلے کام میں نقص پیدا ہو جاتا ہے- میرا ارادہ ہے کہ دو تین سال کے بعد ایسے جلسے منعقد کرانے کی تجویز کی جائے جن میں ہر مذہب والا اپنے مذہب کے بانی کی خوبیاں بیان کرنے کی بجائے دوسرے مذاہب کے بانیوں کی خوبیاں بیان کرے- اس قسم کے جلسے ہندوستان جیسے ملک سے بہت سے تفرقے اور رنجشیں دور کر سکتے ہیں- میں امید کرتا ہوں اللہتعالیٰ توفیق دے تو کسی ایک بزرگ کا نہیں بلکہ بزرگوں کا دن منانے کے لئے ہم کھڑے ہوں گے- اس میں شرط یہ رکھی جائے کہ کوئی شخص اپنے مذہب کے بانی کی خوبیاں نہ بیان کرے بلکہ دوسرے مذہب کے بانی کی خوبیاں پیش کرے- اس کے بعد میں یہ بات بھی کہنا چاتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ کی تعریف کرنا بے شک ایک مسلمان اپنے مذہب کے لحاظ سے ثواب کا کام سمجھتا ہے اور غیر مذاہب والے بھی جنہیں رسول کریم ﷺ کے حالات پڑھنے کا موقع ملا ہو اور جو صداقت کے اظہار کی جرات رکھتے ہوں- اظہار صداقت کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی تعریف و توصیف کریں- مگر ایک چیز ہے جسے ہم کسی صورت میں بھی قربان نہیں کر سکتے اور کسی کے لئے بھی قربان نہیں کر سکتے، خواہ وہ رسول کریم ﷺ کی ذات ہی کیوں نہ ہو وہ خدا تعالیٰ کی ذات