انوارالعلوم (جلد 11) — Page 213
۲۱۳ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دشمن کی نظر میں کی پراگندہ اور شکستہ چٹانوں کو ایک متناسب محل کی شکل میں بدل دیا اور ایک ایسی قوم بنا دیا جس کے خون میں زندگی اور طاقت کی لہریں دوڑ رہی تھیں- ایک عیسائی کو وہ ایک عیسائی نظر آتے تھے- ایک یہودی کی نگاہ میں وہ ایک یہودی تھے- ایک مکہ کے بت پرست کی آنکھ میں وہ کعبہ کے اصلاح یافتہ عبادت گذار تھے اور اسی طرح ایک لاثانی ہنر اور ایک بے مثال دماغی قابلیت کے ساتھ انہوں نے سارے عرب کو خواہ کوئی بت پرست تھا، یہودی تھا کہ عیسائی تھا مجبور کر دیا کہ وہ ان کے قدموں کے پیچھے ایک سچے مطیع کے طور پر جس کے دل سے ہر قسم کی مخالفت کا خیال نکل چکا ہو چل پڑے- یہ فعل اس صناع کا ہوتا ہے جو اپنا مصالح آپ تیار کرتا ہے اور یہاں اس مصالح کی مثال چسپاں نہیں ہوتی جو کہ آپ ہی آپ بن جاتا ہے اور اس مصالح کے ساتھ تو اس کو بالکل ہی کوئی مشابہت نہیں- جو اپنے صناع کو خود تیار کرتا ہے- یہ محمد کی ذات تھی جس نے اسلام بنایا- یہ اسلام نہیں تھا اور نہ کوئی اور پہلے سے موجود اسلامی روح تھی جس نے محمد کو بنایا’‘-۱؎ میور خواہ ہوا میں اڑے یا زمین پر چلے- پھر میور ہی ہے- اس کا ڈنگ اس کے ساتھ ہے- لیکن باغ محمدﷺ کے پھولوں سے چوسا ہوا شہد بھی اس کی زبان سے ٹپک رہا ہے- وہ لاکھ کہے کہ اسلام آنحضرت ﷺ کا تیار کردہ ہے- وہ دشمن ہے اور دشمنی اس کا شیوہ- لیکن یہ صداقت جو اس کے قلم سے نکل گئی ہے- اب ہزار کوشش سے بھی وہ اور اس کے ساتھی اس کو لوٹا نہیں سکتے کہ دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا نہیں کیا- بلکہ محمد ﷺ نے ایک نئی دنیا پیدا کی ہے- اور یہ کام سوائے خدا کے فرشتوں کے اور کوئی نہ کر سکتا- زمینی راہنما زمین کی پیدائش ہوتے ہیں- یہ انسانی راہنما ہی ہوتے ہیں جو نئی زمین پیدا کر جاتے ہیں- کیونکہ جو خالق کی طرف سے آتا ہے، وہی نئی خلق پر قدرت پاتا ہے- (الفضل ۲۵- اکتوبر ۱۹۳۰ء) ۱؎