انوارالعلوم (جلد 11) — Page 119
۱۱۹ دکھا دیں گے۔اپنی ذات میں کامل کتاب آٹھویں بات حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ بیان فرمائی کہ قرآن کسی اور کتاب کا محتاج نہیں بلکہ اپنی ذات میں کامل ہے۔اور تمام ضروری علوم اس میں موجود ہیں۔یہ صرف جھوٹے مذاہب کا رد ہی نہیں کرتا بلکہ ہر ضروری چیز بھی پیش کرتا ہے۔یہ دعویٰ بھی ایساجس کا لوگ تجربہ کرسکتے تھے کیونکہ بعض نئے اخلاق اور نئی قابلیتوں کا علم ہوا تھا۔ان کے متعلق وہ پوچھ سکتے تھے کہ بتاؤ قرآن میں کہاں ہیں۔مگر کوئی شخص مقابل میں نہ اٹھا۔اعلیٰ درجہ کی روحانی ترقیات عطا کرنے والی کتاب نویں بات آپ نے یہ پیش کی کہ قرآن میں انسان کی اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی ترقیات کے گُر موجود ہیں اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھولے گئے ہیں اور ہر قسم کی تدابیر بتائی گئی ہیں جن سے وہ ترقیات حاصل کرسکتا ہے۔بعث بعد الموت کی ـحقیقت دسویں آپ نے بعث بعد الموت کی حقیقت ثابت کی۔دوزخ کا کیا نقشہ ہوگا۔کون لوگ اس میں جائیں گے۔کیا کیا تکالیف ہوں گی۔اسی طرح یہ کہ جنت میں کون لوگ ہوں گے۔اس کی لذات کیسی ہوں گی۔جنت دائمی ہوگی یا نہیں۔غرض ساری باتیں بیان کردیں اس وقت میں ان انکشافات کی مثالیں پیش نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں پڑھی جاسکتی ہیں۔بالخصوص ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ اور میری کتاب ’’احمدیت‘‘ میں ان کا ذکر ہے۔مطہّر کی تعریف یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ لَا یَمَسُّہٗ اِلَّاالْمُطَھَّرُوْنَ میں مُطَھَّرٌ کا لفظ استعما ل ہوا ہے نہ کہ طَاھِرٌ کا لفظ۔اس کی وجہ یہ کہ طَاھِرٌ وہ شخص ہوتاہے جو زہد و ورع سے ایک پاکیزگی حاصل کرلیتا ہے۔اور مُطَھَّرٌ وہ ہوتا ہے جو کسی اندرونی نسبت سے اﷲ تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے۔اور مُطَھَّرٌ کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کے قول یا فعل سے ہی ہوتا ہے نہ کہ اس کے کسی عمل یا لوگوں کے کہنے سے۔چنانچہ دیکھ لو۔وہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کی صحیح تفاسیر لکھیں۔وہ وہی لوگ تھے جو خدا تعالیٰ کے الہام اور اس کے قرب سے مشرف تھے اور خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے شامل حال تھی۔