انوارالعلوم (جلد 11) — Page 87
۸۷ حالت میں بھی مداہنت نہیں اختیار کرنی چاہئے بلکہ احمدیت کی تبلیغ کھلے بندوں کرنی چاہئے- اب کے سال یہ تجویز ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلٰوۃ والسلام کا طریق تھا کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد چھوٹے چھوٹے تبلیغی اشتہار شائع کرتے رہتے تھے- اب بھی اس طرح کیا جائے- ایسے اشتہارات دس، بیس، تیس ہزار شائع کئے جائیں- اس طرح امید ہے کہ نیا جوش پیدا ہو جائے گا- میرا ارادہ ہے اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو جنوری میں ہی ایک اشتہار شائع کر دیا جائے تا کہ دوست جاتے ہی اس کام کو شروع کر دیں- پچھلے سال میں نے قرآن کریم اور حدیث کے درس کی طرف احباب کو توجہ دلائی تھی اب پھر توجہ دلاتا ہوں- جہاں جہاں درس جاری ہوا وہاں نمایاں ترقی کے آثار نظر آتے ہیں- وہاں کے احمدیوں کی اولادوں پر نمایاں اثر ہے- ابھی تک جہاں درس جاری نہیں ہوئے وہاں ضرور جاری کئے جائیں- خواہ کوئی کتنا تھوڑا پڑھا ہوا ہو، درس جاری کرے تو خدا تعالیٰ اس کی ضرور مدد کرے گا اور خود اسے معارف سکھلائے گا- اس طرح درس دینے والے کو خود بھی فائدہ پہنچے گا اور دوسروں کو بھی- جہاں جہاں درس جاری ہیں وہاں کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ درس میں بڑے ہی شامل نہ ہوں بلکہ بچوں کو بھی شامل کیا جائے تا کہ بچپن سے ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا ہو- تھوڑی دیر درس ہو تا کہ وہ بے دل نہ ہوں اور اگر عام درس جاری نہ ہو سکے تو گھر میں بیوی بچوں کو ہی لے کر بیٹھ جانا چاہئے اور ایک رکوع اور اس کا ترجمہ سنا دیا جائے- احباب کم از کم تین ماہ ہی اس طرح کر کے دیکھیں کہ کیا اثر پیدا ہو جاتا ہے- اگر ترجمہ نہ آتا ہو تو مترجم قرآن سے ہی پڑھ دیا جائے- اب میں اپنی جماعت کے دوستوں کی توجہ اس طرف دلاتے ہوئے تقریر ختم کرتا ہوں کہ دنیا میں ترقی کرنے کے دو ہی راستے ہیں- ایک دیوانگی اور دوسرا فرزانگی- بغیر ان کے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کہ یا تو انسان پاگل بن کر دنیا ومافیھا کو بھول جائے یا پھر عقل کے اس نقطہ پر پہنچ جائے کہ کوئی غلطی اس سے سرزد نہ ہو- یورپ کے لوگوں کو دیکھو جو کام وہ کرنا چاہتے ہیں اس کی سکیم تیار کرتے وقت باریک در باریک باتوں تک پہنچتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوائے اس کام کے کوئی چیز ان کے پیش نظر ہی نہیں ہے- پس ترقی یا تو فرزانگی سے حاصل ہو سکتی ہے یا دیوانگی سے- دیوانگی کی ترقی وہ ہوتی ہے جو انبیاء کی جماعتیں حاصل کرتی ہیں- لوگ ان پر ہنستے ہیں کہ وہ اپنا مال برباد کر رہے ہیں- چنانچہ آتا ہیے قالوا انومن کما