انوارالعلوم (جلد 10) — Page 45
۴۵ لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کمیشن کے مقرر کرنے میں گورنمنٹ نے ہندوستانیوں کی ہتک کی ہے کیونکہ اس میں کسی ہندوستانی کو ممبر نہیں بنایا۔مسلمانوں کے بڑے بڑے سیاست دان جیسے مسٹر جناح اور سر عبدالرحیم کہتے ہیں کہ اس ہتک کی وجہ سے اس کمیشن کا ہمیں بائیکاٹ کر دینا چاہئے اور اس کمیشن سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہئے۔اور مولانامحمد علی صاحب کا خیال ہے کہ چونکہ اس میں گور نمنٹ کا ہاتھ ہے اس لئے اس سے ہمیں کچھ سروکار نہیں ہونا چاہئے۔میں سر عبدالرحیم کاتوواقف نہیں لیکن مسٹر جناح اور مولانا محمد علی سے پچھلے دنوں شملہ میں مجھے شناسائی ہو چکی ہے اور یونیٹی کانفرنس اور قانون حفاظتِ مذاہب کے متعلق گھنٹوں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا ہے۔میں مسٹر جناح کو ایک بہت زیرک قابل اور مخلص خادم قوم سمجھتا ہوں اور ان سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔میرے نزدیک وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں اپنے ذاتی عروج کا اس قدر خیال نہیں جس قدر کہ قومی ترقی کا ہے۔مولانا محمد علی صاحب کو بھی میں نے اس سے بہت اچھا پایا جیسا کہ سنا تھا۔وہ ایک درد مند دل رکھنے والے اور محنت سے کام کرنے والے انسان ہیں اور جن مخالف حالات میں وہ کام کر رہے ہیں۔وہ اس بات کا انہیں مستحق بناتا ہے کہ مسلمان ان کی قدر کریں اور ان کی رائے کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔مجھے ان سے کئی باتوں میں اختلاف رہا ہے لیکن میں ہمیشہ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا رہا ہوں۔پہلے ان کے بڑے بھائی مولوی ذوالفقار علی خان صاحب کی وجہ سے جو ہماری جماعت میں شامل ہیں۔اور اب خود ان کی اپنی ذات کی وجہ سے۔سر عبدالرحیم صاحب کو گو میں نے دیکھا نہیں لیکن ان کی رائے کو اخبارات میں پڑھا کرمَیں ہمیشہ انہیں ایک سمجھدار اور لائق انسان سمجھتا رہا ہوں۔ان لوگوں کے مقابلہ پر جو لوگ ہیں میرے نزدیک وہ سوائے چند کے اس پایہ کے نہیں ہیں جس پایہ کے یہ لوگ ہیں۔مگر باوجود اس کے کہ میں مسٹر جناح اور ان کے ہم خیال مسلمانوں کی اس رائے سے سخت اختلاف رکھتا ہوں اور میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی رائے پر دوبارہ غور کریں۔اس وقت کمیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرنا مسلمانوں کے لئے سخت مضر ہو گا۔اس بائیکاٹ کا جس قوم کو فائدہ پہنچے گا وہ ہندو قوم ہے۔یا گورنمنٹ کا وہ حصہ جو ہندوستانیوں کو حقوق دیئے جانے کے مخالف ہے۔مسلمان بائیکاٹ سے سخت گھاٹے میں رہیں گے اور بعد میں پچھتانے میں کوئی نفع نہ ہو گا۔میں ان لوگوں کی رائے کو سخت حقارت سے دیکھتا ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ مسٹر جناح یا سر عبدالرحیم اس لئے کمیشن کے بائیکاٹ کی تائید میں ہیں کہ انہیں کمیشن کا ممبر ہونے کی امید تھی جو پوری نہیں ہوئی۔میں سر فضل