انوارالعلوم (جلد 10) — Page 361
۳۶۱ حفاظت اور چمچوں کے ذریعہ سے دودھ پلانے کی ضرورت نہیں’‘- ۵؎ گویا کہ مسلمان کے جذبات اس رپورٹ کے لکھنے والوں کے نزدیک کچھ بھی قیمت نہیں رکھتے جب کہ ہندو کا دل دکھانا ایک بہت بڑا گناہ ہے- مگر اس کے علاوہ اوپر کے حوالہ سے یہ بھی صاف طور پر عیاں ہے کہ رپورٹ لکھنے والے سندھ کے ہندوؤں کو تسلی دلاتے ہیں کہ وہ سندھ میں مسلمانوں کی کثرت سے نہ گھبرائیں- کیونکہ اوپر ہم جو مرکزی گورنمنٹ والے موجود ہیں- جب اور جس وقت تمہاری اقتصادی برتری کو صدمہ پہنچنے لگے گا ہم دخل اندازی کر دیں گے- گو لفظ ایک حد تک احتیاط کے استعمال کئے گئے ہیں- مگر یہ مضمون بین السطور واضح ہے کہ مرکزی گورنمنٹ نے اپنے ہاتھ میں طاقتیں اسی لئے رکھی ہیں تا کہ صوبہ جات میں ہندوؤں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے- ہم خود نہیں جاہتے کہ کسی کا حق مارا جائے مگر ہمیں یہ شبہ ہے کہ مرکزیگورنمنٹ مسلم اکثریت والے صوبوں کے کاموں میں صرف اسی وقت دخل نہ دے گی جب کہ ہندوؤں کے حقوق تلف ہو رہے ہوں بلکہ بیجا دخل دے کر مسلمان صوبوں کو ترقی کے راستہ سے روک دے گی اور مسلمانوں کی ترقی کی تدابیر کو اختیار نہ کرنے دے گی- جس طرح کہ پچھلے زمانہ میں یورپین طاقتیں ٹرکی میں مسلمانوں کی ترقی کے راستہ میں روک ڈالا کرتی تھیں- لیکن یہی وجہ نہیں کہ ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ہندوستان کی وسعت اور اس کی زبانوں اور قوموں اور عادات کا اختلاف چاہتا ہے کہ ہر صوبہ الگ الگ آزادانہ ترقی کرے- ملکی حکومت کبھی بھی ہندوستان کیلئے مفید نہیں ہو سکتی- سوائے اس صورت کے کہ فیڈرل اصول پر ہو- اور فیڈرل یعنی اتحادی اصول پر حکومت کوئی غیر مجرب شے نہیں ہے- ریاستہائے متحدہ امریکہ اس اصل پر حکومت کر رہی ہیں- اور اس وقت سب دنیا کی حکومتوں سے طاقتور اور مالدار ہیں- ہاں یہ قانون ضرور ہونا چاہئے کہ صوبہ جات کو کسی وقت اور کسی صورت میں بھی مرکزی حکومت سے علیحدہ ہونے کا اختیار نہ ہوگا- یہ ذمہ داری ہر ایک صوبہ اپنے اوپر لے لے گا تو ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا کوئی احتمال نہ رہے گا- جیسا کہ ایک وقت ریاستہائے متحدہ کو خطرہ ہوا کرتا تھا- دوسرا مطالبہ، نیابت دوسرا مطالبہ اس پارٹی کا یہ ہے کہ مختلف اقوام کی نیابت کے متعلق اس اصل کو تسلیم کر لیا جائے کہ جن صوبوں میں کہ کسی قوم کی اقلیت کمزور ہے- ان میں اس کے ہر قسم کے خیالات کے لوگوں اور ہر قسم کے فوائد کی نیابت