انوارالعلوم (جلد 10) — Page 260
۲۶۰ خادم کی شہادت پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دوستوں سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں- بیویوں سے بھی اچھا معاملہ کرتے ہیں- بھائیوں سے بھی عمدگی سے پیش آتے ہیں- مگر اپنے نوکروں پر سختی کرتے ہیں- اس لئے یہ سوال ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک نوکروں سے کیسا تھا- اس کے لئے ایک ایسے شخص کی شہادت پیش کی جاتی ہے جو بچپن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا اور آپ کی وفات تک آپ کے پاس رہا- وہ شخص انس ؓتھے- وہ بیان کرتے ہیں خواہ مجھ سے کوئی کام کتنا ہی خراب ہو جائے- کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ نہ ہوتے تھے- اور نہ ہی بری نظر سے دیکھتے تھے- پھر آپ نے مجھے کوئی کام ایسا نہیں بتایا جو میں نہ کر سکتا تھا اور جو کام مجھے بتاتے آپ بھی میرے ساتھ اس میں شامل ہو جاتے اور آپ کبھی سخت کلامی نہ کرتے تھے- معاملہ کرنے والے کی شہادت پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دوستوں اور نوکروں سے بھی اچھا معاملہ کرتے ہیں- مگر جب کسی سے مشارکت مالی انہیں ہو جاتی ہے تو پھر ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے- اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جن لوگوں کو معاملہ پڑا ہم ان کی شہادت پر نگاہ ڈالتے ہیں- قیس بن سائب ایک شخص تھا- جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مل کر تجارت کی تھی- وہ مدتوں تک مسلمان نہ ہوا- فتح مکہ کے بعد وہ آپ کے پاس آیا اور کسی نے بتایا کہ یہ فلاں شخص ہے- آپ نے فرمایا- میں تمہاری نسبت اسے زیادہ جانتا ہوں- اس سے مل کر میں نے تجارت کی تھی- اس نے کہانعم الشریک لایداری ولایماری ولایشاری ۱۰؎ کہ اس سے اچھا شریک میں نے نہیں دیکھا- اس نے کبھی ٹھگی نہ کی، کبھی کوئی شرارت نہ کی، کبھی کوئی جھگڑا نہ کیا- وصال کے بعد کی شہادتیں پھر کہا جا سکتا ہے کہ آپ بڑے آدمی تھے زندگی میں لوگ ان سے ڈرتے تھے اور کوئی مخالفانہ بات نہ کہہ سکتے تھے- اس لئے میں اس زمانہ کو لیتا ہوں- جب کہ آپ فوت ہو گئے کہ اس وقت آپ کے متعلق کیا شہادت ملتی ہے- دوسری بیوی کی شہادت اس زمانہ کے متعلق بھی پہلے میں آپ کی ایک بیوی کی شہادت پیش کرتا ہوں اور وہ حضرت عائشہؓ ہیں- جو آپ کی نو