انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 129

۱۲۹ ہو اور اس میں اپنی قدرت اس کے لئے ظاہر کر رہا ہو- یہ کامل توحید کا درجہ ہے جب کسی کو یہ حاصل ہو جائے تو اس کے بعد کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا- اور اسی توحید پر ایمان لانا مدار نجات ہے- اور اسی کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ ہے کہالذین یذکرون اللہ قیاما و قعودا وعلی جنوبھم ویتفکرون فی خلقالسموت والارض ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذابالنار- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور پہلوؤں پر بھی اور زمین اور آسمانوں کی پیدائش کے متعلق فکر کرتے ہیں، خدا ان کے سامنے آ جاتا ہے- اور وہ بے اختیار ہو کر پکار اٹھتے ہیں کہ ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذابالنار اے ہمارے رب! یہ چیزیں جو تو نے بنائی تھیں لغو نہ تھیں- ان کے ذریعہ ہم تجھ تک آ گئے ہیں- تو پاک ہے اب ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے- یعنی ایسا نہ ہو کہ ہم اس مقام سے ہٹ جائیں اور ہجر کی آگ ہمیں بھسم کر دے- اب پیشتر اس کے کہ میں ان دوسری غلط فہمیوں کے ازالہ کا ذکر کروں جو خدا تعالیٰ کے متعلق لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان سب غلطیوں کے دور کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اصل پیش کیا ہے جو ان سب غلطیوں کا ازالہ کر دیتا ہے اور وہ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شیء ۹؎ہے- پس اس کے متعلق کوئی بات ہم مخلوق پر قیاس کرکے نہیں کہہ سکتے- اس کے متعلق ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ خود اسی کی صفات پر مبنی ہونا چاہئے ورنہ ہم غلطی میں مبتلا ہو جائیں گے- ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جو عقیدہ ہم خدا تعالیٰ کی نسبت رکھتے ہیں وہ اس کی دوسری صفات کے جنہیں ہم تسلیم کرتے ہیں مطابق ہے یا نہیں- اگر نہیں تو یقیناً ہم غلطی پر ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات متضاد نہیں ہو سکتیں- اس اصل کے بتانے سے آپ نے ایک طرف تو ان غلطیوں کا ازالہ کر دیا جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں اور دوسری طرف غیر مذاہب کی غلطیوں کی بھی حقیقت کھول دی ہے- میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق لوگوں میں کئی قسم کی غلطیاں پڑی ہوئی تھیں جن میں سے توحید کے متعلق جو اصلاح حضرت مسیح موعودؑ نے کی ہے اسے میں اوپر بیان کر آیا