انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 105

۱۰۵ نے کی تھی جس پر ہم عمل کر رہے ہیں لیکن احمدی اس پر عمل نہیں کرتے۔احمدیوں نے شاید یہ سمجھا کہ یہ وقتی تحریک ہے چند دن اس پر عمل کرنا کافی ہے حالانکہ یہ مستقل تحریک ہے اس سے جرأت بھی پیدا ہوتی ہے اور صبروتحمل بھی۔مفتی محمد صادق صاحب ایک سرکاری افسرسے ملنے کے لئے گئے تو اس نے کہا یہ بہت اچھی تحریک ہے مسلمانوں کو اس کی وجہ سے اطمینان رہے گا کہ ہمارے ہاتھ میں بھی ہتھیار ہے۔پنجاب کے نو ضلعوں میں اب تلوار رکھنے کی قانونی طور پر اجازت ہے اور باقی اضلاع کے جو لوگ انکم ٹیکس دیتے ہوں یا پچاس روپیہ یا اس سے زیادہ مالیہ ادا کرتے ہوں وہ تلوار رکھ سکتے ہیں باقی صوبوں میں ہر شخص کو تلوار رکھنے کی اجازت ہے۔تلواریں بنانے والے ہمارے بھیرہ کے احمدی ہیں جو بہت اچھی تلواریں بناتے ہیں۔جن اضلاع میں تلوار رکھنے کی اجازت ہے ان میں رہنے والا ہر احمدی تلوار رکھ سکتا ہے اور دوسروں کو تلوار رکھنے کی تحریک کر سکتا ہے۔ان اضلاع کے لوگوں کو حتی المقدور تلوار خریدنی چاہیے۔تلوار سَستی بھی مل جاتی ہے پانچ روپیہ تک آسکتی ہے۔باقی لوگوں کو سونٹے رکھنے چاہئیں تاکہ ان میں دلیری اور جرأت پیدا ہو۔اب میں آخری بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو نہایت اہم ہے۔دیکھو ساری مصیبت مسلمانوں کے لئے یہ ہے کہ وہ استقلال سے کام نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالف دلیر ہوتے جاتے ہیں۔جو دشمن اٹھتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات پر حملہ کرنے لگ جاتا ہے ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا حملہ ہوتا ہے مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ جس طرح بچے آپس میں کہتے ہیں آؤ چور چور کھیلیں اس کھیل کے لئے ایک پولیس مین بن جاتا ہے دوسرا چور بن جاتا ہے چور کو پکڑ کر سزا دی جاتی ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ چور اور پولیس مین بننے والےایک دوسرے کے گلے میں باہیں ڈال کر چلے جاتے ہیں اسی طرح مسلمان کرتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت پر حملہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں آؤ رسول اللہ کی عزت کا کھیل کھیلیں اس وقت ان میں بڑا خوش ہوتا ہے مگر دوسرے وقت بالکل ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔اگر مسلمانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حقیقی عزت کا احساس ہو تو بھی آپ کی عزت کی حفاظت سے غافل نہ ہوں۔پچھلے دنوں جب آریوں کی طرف سے پے در پے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف حملے ہوئے اور میں نے مسلمانوں کو اس کے مقابلہ کے لئے صحیح طریق عمل بتایا تو کئی خطوط میرے پاس آئے جن میں لکھا تھا کہ تم نے بہت بزدلی سے کام لیا ہے جو یہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف بد زبانی کرنے والے کو مارنا نہیں