انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 92

۹۲ کریم کی ایک ایک آیت قلب میں وہ تغیر پیدا کر دیتی ہے جو دنیا کی ہزاروں کتابیں نہیں کر سکتیں۔قرآن کریم پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ درس جاری کیا جائے۔بہت سی ٹھوکریں لوگوں کو اس لئے لگتی ہیں کہ وہ قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے۔پس ضروری ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کا ادرس جاری کیا جائے اگر روزانہ درس میں لوگ شامل نہ ہو سکیں تو ہفتے میں تین دن سہی اگر تین وان بھی نہ آسکیں تو دو دن ہی سہی۔اگر دو دن بھی نہ آسکیں تو ایک ہی دن سہی مگر درس ضرور جاری ہونا چاہئے تاکہ قرآن کریم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ جہاں جہاں امیر مقرر ہیں وہاں وہ درس دیں۔اگر کسی جگہ کا امیر درس نہیں دے سکتا تو وہ مجھ سے اس بات کی منظوری لے کہ میں درس نہیں دے سکتا درس دینے کے لئے فلاں آدمی مقرر کیا جائے یہ نہیں کہ وہ خودہی اپنے متعلق فیصلہ کر لے۔کئی لوگ اپنے متعلق آپ ہی فتویٰ دے لیتے ہیں اور اپنا بوجھ دوسرے پر ڈال دیتے ہیں۔ہر جگہ کے امیر کا فرض ہے کہ وہ خود درس دے اگر نہیں دے سکتا مجھے کے میں اور آدمی مقرر کرونگایا اسے ہی درس دینے کے قابل سمجھوں گاتو کہوں گا وہ خود دے۔تمام امراء کو جنوری کے مہینہ کے اندر اندر مجھے اطلاع دینی چاہئے کہ درس کے متعلق انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے اور درس روزانہ ہو گا یا دوسرے دن یا ہفتہ میں دو بار یا ایک بار۔میں سمجھتا ہوں درس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت راسخ ہو جائے گی اور بہت سے فِتن کا آپ ہی آپ ازالہ ہو جائے گا۔دوسری تجویز یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے اعلان کیا تھا قرآن کریم کا درس دیا جائے گا اور اس کے مطابق اگست ۱۹۲۲ء میں دس پاروں کا درس دیا گیا جس میں باہر سے ساٹھ ستّر کے قریب دوست شامل ہوئے تھے۔اب اعلان کرتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی صحت اور زندگی بخشی تو اس دفعہ جولائی کے مہینہ میں پھر دس پاروں کا گیارہویں سے لے کر بیسویں تک کا درس دوں گا جو لوگ شامل ہونا چاہیں جنوری میں ہی اطلاع دے دیں۔کم از کم پچاس دوست باہر سے آئیں گے تو درس دوں گا۔اس طرح تین سال کے اندر اندر باہر کی جماعتوں کے امراء اور دوسرے لوگ قرآن کریم کی موٹی موٹی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔اصلاح نفس کے لئے دوسری چیز یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ باقاعدہ حضرت صاحب کی کتب کا مطالعہ نہیں کرتے۔اگر ہراحمدی یہ فیصلہ کر لے کہ حضرت صاحب کی کسی کتاب کا روزانہ کم از کم