انوارالعلوم (جلد 10) — Page 60
۶۰ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ والوں نے نفرت کا اظہار کیا، اس کے ملک والوں نے حقارت آمیز تبسم سے اسے دیکھا، اس کی طرف سے مونہہ موڑ لیا اور کہا تعجب ہے کہ اس تعلیم کے زمانہ میں بھی ایسے مجنون پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر اس نے کسی کی حقارت کی کوئی پرواہ نہ کی اور نہ دنیا کی عزت کو کوئی وقعت دی بلکہ اس آواز کی تعمیل میں جو آسمان سے بلند ہو رہی تھی اور جو اسے کہہ رہی تھی کہ اُٹھ کھڑا ہو ساری دنیا کے مقابلہ میں اُٹھ کھڑا ہوا۔وہ خود اپنی اس جسارت پر حیران تھا، وہ خود اپنی کمزوری اور بے کسی کو محسوس کرتا تھا، وہ دنیا کی مخالفت اور عداوت سے آگاہ تھا، وہ کوئی مجنون نہ تھا، وہ جاہل نہ تھا، وہ نا تجربہ کار نہ تھا۔اس کا علم، اس کا تجربہ ، اس کی عقل، اس کی سمجھ اسے بتا رہی تھی کہ وہ ایک کمزور اور ناتواں ہستی ہے۔اس میں کوئی زور اور طاقت نہیں ہے دنیا کی ساری طاقتیں اس کے خلاف ہیں لیکن وہ مجبور تھا کیونکہ اس کا سب سے پیارا آقا اور سب سے بڑا محسن اسے کہہ رہا تھا کہ اُٹھ اور دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا ہو جا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی اس حالت اور اس کیفیت کا اندازہ اس نوٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے اپنی ایک پرائیویٹ نوٹ بُک میں لکھا اور جسے میں نے نوٹ بک سے لے کر شائع کر دیا۔وہ تحریر آپ نے دنیا کو دکھانے کے لئے نہ لکھی تھی کہ کوئی اس میں کسی قسم کا تکلّف اور بناوٹ خیال کر سکے۔یہ ایک سرگوشی تھی اپنے رب کے ساتھ اور وہ ایک عاجزانہ پکار تھی اپنے اللہ کے حضور جو لکھنے والے کے قلم سے نکلی اور خدا تعالی کے حضور پہنچی۔آپ نے وہ تحریر نہ اس لئے کی تھی کہ وہ دنیا میں پہنچے اور نہ پہنچ سکتی تھی اگر میرے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت کے ماتحت نہ ڈال دیتا اور میں اسے شائع نہ کردیتا۔اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔اے خدا! میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں۔جبکہ تمام دوست و غمخوار مجھے کوئی مدد نہیں دے سکتے اس وقت تُو مجھے تسلی دیتا اور میری مدد کرتا ہے۔(مفہوم) غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ایسی حالت میں آواز اٹھائی اور اسی جگہ قادیان سے اُٹھی جو آہستہ آہستہ گونج پیدا کرتی گئی، بلند سے بلند تر ہوتی گئی حتی کہ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔یہ آواز اسی طرح گزری جس طرح ایک جنگل بیابان سے جس میں کثرت سے سرکنڈے ہوں ہوا گزرتی ہے۔سرکنڈوں سے مل کر ہوا سے سیٹی کی آواز پیدا ہوتی ہے۔سرکنڈے اس کا مقابلہ کرتے اور اُسے گزرنے نہیں دیتے۔اس وقت ہوا چلاتی اور آواز پیدا کرتی