اسماء المہدی علیہ السلام — Page 165
اسماء المهدی صفحہ 165 بیت اللہ خدا نے اپنے الہامات میں میرا نام بیت اللہ بھی رکھا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس قدر اس بیت اللہ کو مخالف گرانا چاہیں گے، اس میں سے معارف اور آسمانی نشانوں کے خزانے نکلیں گے۔چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک ایزا کے وقت ضرور ایک خزانہ نکلتا ہے اور اس بارے میں الہام یہ ہے: 6 یکے پائے من می بوسید و من میگفتم که حجر اسود منم (روحانی خزائن جلد 17 ، صفحہ 445-444 حاشیہ۔اربعین نمبر (4) ترجمه از مرتب : کہ ایک شخص میرے پاؤں کو بوسہ دیتا تھا اور میں اُسے کہتا تھا کہ حجر اسود میں ہوں۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوْحِيَ إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ يَاتُوْنَ مِنْ كُلَّ فَةٍ عمیق یعنی تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم الہام کریں گے۔وہ دُور دراز جگہوں سے تیرے پاس آویں گے۔اس جگہ استعارہ کے رنگ میں خدا تعالیٰ نے مجھے بیت اللہ سے مشابہت دی ہے کیونکہ يَاتُوْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ خانہ کعبہ کے حق میں ہے۔“ ( تذکر طبع چہارم صفحه 623)