اسماء المہدی علیہ السلام

by Other Authors

Page 146 of 498

اسماء المہدی علیہ السلام — Page 146

اسماء المهدی صفحہ 146 الإنسان هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِيْنٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْكُورًا کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گزرا کہ تیراد نیا میں کچھ بھی ذکر و تذکرو نہ تھا۔یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمارو حساب میں نہ تھا۔یعنی کچھ بھی نہ تھا۔یہ گزشتہ تلطفات اور احسانات کا حوالہ ہے تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے۔“ (روحانی خزائن جلد اول - صفحہ 582۔حاشیہ نمبر 3) انسان کامل خدا تعالیٰ کے روح کا جلوہ گاہ ہوتا ہے۔اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایسا وقت آجاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر ایک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سے۔اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو، آگ میں ڈال دو، وہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا۔کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے۔اور ہر ایک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔“ روحانی خزائن جلد ششم صفحہ 30 حاشیہ برکات الدعا) انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتا فوقتا کھینچا جاتا ہے۔" (روحانی خزائن جلد ششم صفحہ 31 حاشیہ برکات الدعا)