حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 57
06 تا عامتہ المسلمین مطمئن ہو جائیں کہ جب تک تیسری جنگ بر پا ہو کر سب کا فروں کا خاتمہ نہ کر د سے امام مہدی ہرگزہ نہیں آئیں گے۔یہاں یہ جائزہ لینا بھی دلچسپی کا موجب ہوگا کہ جہاں متحدہ ہندوستان میں قریباً ایک صدی کے اندر نعمت اللہ ولی کے نام پر انٹی کے قریب اشعار اختراع کئے گئے وہاں پاکستان کے پچپن سالہ دور میں وضعی شعروں کی رفتار میں نسبتنا زیادہ ترقی ہوئی چنانچہ ان کی تعداد قریباً اٹھاون تیک جا پہنچی ہے۔ستم ظریفی کی انتہاء ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ وہی وضعی اور جعلی قصید سے جو وقتاً فوقت اضافوں کے ساتھ شائع کئے گئے تھے اور حال ہی میں دوبارہ شائع کئے گئے ہیں۔اُن کے مؤلف » شاہ نعمت اللہ کو بیک جنبش قلم جہانگیر اور شاہجہان کا ہمعصر بنا کر عوام کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ شاہ نعمت الله نے آنے والے انقلابات زمانہ پر تقریبا دو ہزار اشعار فارسی زبان میں لکھتے۔ارونه نامه مشرق ۱۲۱ دسمبر ۶۱۹۷۱ صفحه نمبر ۵) یہ اعلان دوسرے لفظوں میں اس عزم کا اظہار ہے کہ جب تک حضرت شاہ نعمت اللہ کے نام پر شائع کئے جانے والے اشعار کی تعداد دو ہزار تک نہ پہنچ جائے یہ سلسلہ تصنیف و اختراع جاری رہے گا۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔