حضرت نعمت اللہ ولیؒ اور اُن کا اصلی قصیدہ — Page 41
۴۱ 16 بن گیا اور کہ بلا کا منظر پیش کرنے لگا۔اس المناک حادثہ پر ۱۹۴۸ کے وسط میں بعض ہوشیار لوگوں نے نعمت اللہ ولی کی طرف منسوب دوسرا وضعی قصیدہ جس کا قافیہ بیانہ تھا اور تحریک عدم موالات کے زمانہ میں اشعار یک تصنیف ہوا تھا۔لاہور کے اخبار "زمیندار" اور "شہباز وغیرہ میں مزید پندرہ سولہ اشعار کے اضافہ کے ساتھ شائع کر دیا۔اضافہ شدہ اشعار میں اس طرفہ کا مضمون تھا کہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا شہر ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اس میں ان کا قتل عام ہوگا یہ قصہ دو عیدوں کے درمیان ہو گا۔مگر پھر ماہ محرم میں مسلمانوں کے ہاتھ میں تلوارہ آجائے گی اور وہ ستان پر دوبارہ قابض ہو جا گے۔چونکہ اس وقت تک میر عثمان علی مرحوم والی دکن کی ریاست قائم تھی۔اس لئے یہ شعر بھی جڑ دیا گیا کہ ہے بعد آن شود چو شورش در ملک ہند پیدا عثمان نماید آندم یک عزم عنازیانه یعنی اس کے بعد پورے ملک ہند میں شورش بپا ہو گی۔تب عثمان جہاد کا مصمم ارادہ کرے گا۔لیکن ۱۸ ستمبر ۱۹۴۸ء کو ریاست حیدر آبادر نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اس پیشگوئی کے مصنوعی اور بناوٹی ہونے پر خود بخود مُہر تصدیق ثبت ہو گئی۔