اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 547 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 547

547 بے نواؤں کے یار! آ جاؤ غمزدوں کے قرار ! آ جاؤ آج ارض و سما پر بوجھل ہے کہکشاں کا غبار، آ جاؤ چاندنی ہے ، چناب ہے، مے ہے جمع ہیں بادہ خوار آ جاؤ قلب ویراں کے گوشے گوشے سے اُٹھ رہی ہے پکار، آ جاؤ۔ہو سکا تو کریں گے مل جل کر کچھ غموں کا شمار، آ جاؤ دور احساس کے کنارے پر چھپ کے بیٹھے ہو، پار آ جاؤ میری تنہائیوں نے چاہا ہے تم کو پھر ایک بار، آ جاؤ مضطر زار کا تمھارے بغیر کون ہے غمگسار آ جاؤ