اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 216 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 216

216 ہم ہوئے، چشم باطنی نہ ہوئی دن چڑھا بھی تو روشنی نہ ہوئی غم جاناں بھی نا تمام رہا زلف چھائی مگر گھنی نہ ہوئی دوستوں کا بھی حق ادا نہ ہوا دشمنوں سے بھی دشمنی نہ ہوئی آه تاریکی شب فرقت چاند نکلا تو چاندنی نہ ہوئی جان دے کر مریض لیٹ گیا مرگِ اُلفت میں جاں کنی نہ ہوئی مجھ کو میرا سراغ مل جاتا تیرے چہرے کی چاندنی نہ ہوئی حیف ایسے سرور پر مضطر! درد کی جس میں چاشنی نہ ہوئی