اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xvii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xvii

۱۴ جانتا ہوں دعا کے موسم میں وہ اکیلا کدھر گیا ہو گا پر اس کی آواز کی صداقت لفظ لذت سے بھر گیا ہو گا اس وقت ذہن اور مسائل میں اُلجھا ہوا ہے اور دوسری مصروفیت ہے کہ لمبا پیغام تو نہیں لکھ سکتا۔جیسا کہ میں نے کہا آپ کے شعروں میں ڈوب کر اپنے اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق حکمت اور عرفان کی تلاش ہر پڑھنے سننے والا کرتا ہے۔اللہ کرے پڑھنے والے آپ کے اس مجموعے سے استفادہ کریں۔آپ کی شاعری برائے شاعری نہیں ہوتی بلکہ آپ کا ہر شعر، ہر مصرع ، ہر لفظ گہرے معنی لیے ہوئے ہوتا ہے۔اللَّهُمَّ زِدْ وَ بَارِكُ۔اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و سلامتی والی لمبی زندگی عطا فرمائے تا کہ یہ دل سے نکلی حکمت و عرفان کی باتیں ہمیں پڑھنے سنے کو ملتی رہیں۔آمین والسلام خاکسار مرزا مسرور احمد (دستخط) خليفة أسبح الخامس