اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 110 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 110

110 تم کو بھی آتش نمرود میں جلتا دیکھوں چاہتا ہوں کہ تمھیں پھولتا پھلتا دیکھوں میں تو پتھر ہوں پگھل جاؤں گا آنسو بن کر تم کو بھی برف کی مانند پگھلتا دیکھوں اپنی گستاخ نگاہی پر خجل ہو جاؤں اس کا محفل میں اگر رنگ بدلتا دیکھوں