اشکوں کے چراغ — Page 105
105 مجھ سے لاچاروں حقیروں کی اماں اہل ربوہ میں اسی کے نعت خواں ے خدا! بر وے سلام ما رساں ہم بر اخوانش ز ہر پیغمبرے“ سيد الكونين 6 ختم الانبياء مظہر کامل ہے جو اللہ کا راستہ جس کا خدا کا راستہ عرش سے آگے ہے جس کا مرتبہ جائے او جائے کہ طیر قدس را سوزد از انوار آں بال و پرے دو کامران و کامگار و کامیاب خوبیاں اس کی ہیں بے حد وحساب اس کا خالق نے کیا خود انتخاب وہ محمد ہے، نہیں اس کا جواب حسن رویش به ز ماه و آفتاب خاک کولیش په ز مشک و عنبرے“ کائنات اس کی محبت میں ہے مست اس کی خاطر ہے یہ ساری بود و هست حاصل تخلیق اس کی سرگزشت وسعت کونین اس کی سلطنت مَجْمَعُ البَحْرَيْنِ علم و معرفت جامع الاسْمين ابر و خاورے وو