تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 304 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 304

304 عمل سے ثابت کیا کہ انہوں نے اس عظیم شخصیت کو صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ اپنے آقا کا رنگ بھی اپنی زندگی پر چڑھانے کی آخر دم تک کوشش کی۔جو آپ کو عزت و احترام کا موجب بناتی رہی۔قاضی کے طور پر اور صحافت کے فرائض بھی مرکز میں سرانجام دیئے۔آپ کی شادی اور اولاد : آپ کی دوشادیاں ہوئیں۔پہلی شادی ۱۹۰۸ء میں جو حضرت سید عبدالرحمن صاحب کی بیٹی کلثوم بانو سے ہوئی۔اس سے آپ کی ایک بیٹی امتہ الوہاب تھی جس کی شادی حضرت حکیم انوار حسین صاحب ( یکے از ۳۱۳) کے پوتے مکرم عبداللطیف خاں مرحوم سابق اسٹمنٹ پرائیویٹ سیکرٹری سے ہوئی۔حضرت قاضی صاحب کی یہ بیٹی جرمنی میں ہیں۔اہلیہ ثانی محترمہ امتۃ الرشید صاحبہ، ڈاکٹر عطاء محمد خان صاحب سکنہ موضع کھرل ضلع ہوشیار پور کی بیٹی تھیں ان سے آپ کی کوئی اور اولاد نہ تھی۔وفات: ۸۲ برس کی عمر میں وفات پائی اور آپ کا جنازہ حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے پڑھایا۔آپ کی وفات ۳۱۳ رفقاء میں سب سے آخر میں ہوئی۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔نوٹ: تفصیلی حالات اصحاب احمد جلد ششم میں ہیں۔ماخذ : (۱) اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۱۳۸۹ (۲) الفضل ۲۸ اگست ۱۹۹۸ء (۳) روزنامه الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۶ء ☆ ۲۸۲۔حضرت عبدالرحمن صاحب پٹواری سنوری بیعت : ۳ / مارچ ۱۸۹۰ء تعارف: حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ولد دیدار بخش صاحب ساکن سنور علاقہ پٹیالہ سے تھے۔آپ زمینداری کرنے کے علاوہ بطور پٹواری بھی ملازم تھے۔بیعت : رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۱۷۶ نمبر پر ہے۔آپ نے ۳ / مارچ ۱۸۹۰ء کو بیعت کی۔آپ حضرت میاں عبد اللہ سنوری کے ماموں زاد بھائی تھے۔آپ نے جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں شمولیت کی توفیق پائی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں مخلص چندہ دہندگان میں اور آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا نام ۸۲ نمبر پر لکھا ہے۔کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۲ (۵) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ پنجم۔