تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 293
293 ۲۶۳۔حضرت سید دلدار علی صاحب بلہور۔کانپور بیعت : ابتدائی ایام میں تعارف و بیعت : حضرت دلدار علی رضی اللہ عنہ باہور کانپور کے رہنے والے تھے۔محکمہ پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے ایک نوٹس بابت مذہبی مباحثات کے دستخط کنندگان میں آپ کا بھی نام تھا۔کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے آپ کا نام ۶ نمبر پر درج فرمایا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) ضمیمہ انجام آتھم (۳) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد۱۰۔رفقائے باکمال وہ مهدی ( مکرم عبد الکریم قدسی صاحب) ساتھی میسج پاک" کے جو ابتدا کے تھے مخلص تھے، جانثار تھے، پتلے وفا کے تھے بوریا نشین سہی لیکن تھے باکمال سوتے تھے فرش خاک پر وہ آسماں کے لال ہر حکم ورق دل لکھا، زیب تن کیا پر کے قُرب نے انہیں ڈر عدن کیا کھانے کا ان کو ہوش نہ پینے کا ان کو ہوش بس دعوت الی اللہ کا رہتا تھا ایک جوش وہ بے نظیر لوگ تھے اور دیں کی ڈھال تھے بیعت نبھانے والے عجب بے مثال تھے اک انجمن تھے ذات میں خوبی میں چاند تھے ان کے عمل کے سامنے تارے بھی ماند تھے اب ایسے جاں سپاس کہاں، ڈھونڈ لیے ہزار لازم ہے ان کے ہم پڑھیں حالات بار بار تین سو اور تیرہ میں کس کس کا ذکر ہو وہ لعل باکمال ہے جس جس کا ذکر ہو ان