تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 215
215 ☆ ۱۶۶۔حضرت منشی عزیز الدین صاحب۔کانگڑہ ولادت ۲۲ جون ۱۸۸۸ بیعت: پیدائشی احمدی۔وفات :۲۱ فروری ۱۹۶۳ء تعارف و بیعت : آپ حضرت مولوی وزیر الدین صاحب نکیریاں ضلع ہوشیار پور یکے از ۳۱۳ رفقاء کے بیٹے ہیں۔جنہوں نے بیعت ۱۸۸۹ ء کی۔حضرت منشی عزیز الدین کا بیان ہے کہ میں پیدائشی احمدی ہوں۔حضرت خلیفتہ امسیح الثانی نے آپ کا نام شیخ عزیز الدین ذکر فرمایا ہے۔حضرت مولوی وزیرالدین صاحب کی چھ بیٹیاں تھیں اور کوئی نرینہ اولا د نہیں تھی۔حضرت مسیح موعود کی دعا سے حضرت منشی عزیز الدین صاحب کی ولادت ہوئی۔آپ کا نام بھی حضرت اقدس نے ہی رکھا۔میٹرک تک قادیان سے تعلیم حاصل کی اور لا ہور سے دوران ملازمت طبیہ کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی۔آپ ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کانگڑہ کے عینی شاہد تھے۔خلافت سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔آپ نے پانچویں حصہ جائیداد کی وصیت کی۔آپ مکرم مولانا حکیم محمد الدین صاحب نائب ناظم وقف جدید قادیان کے والد ہیں۔آپ کے دامادمولا نا چوہدری محمد صدیق صاحب ایم اے سابق انچارج خلافت لائبریری ربوہ ہیں۔آپ نے محکمہ ریلوے میں ملازمت کی اور ۱۹۱۴ء کی جنگ کے دوران میسور سے بغداد وغیرہ جانے کا بھی اتفاق ہوا۔وفات : آپ کی وفات ۲۱ فروری ۱۹۶۳ء کو بعمر ۷۵ سال ہوئی آپ کا وصیت نمبر ۸۳۷ ہے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبره ربوہ قطعہ نمبرے حصہ نمبر ۲۶ میں ہوئی۔اولاد : آپ نے دوشادیاں کیں۔اہلیہ اول محترمہ عائشہ بیگم۔اہلیہ ثانی محترمہ امینہ بیگم۔ایک بیٹی اور تین بیٹے ہیں۔مکرم علیم الدین صاحب سابق اسٹنٹ فنانشل ایڈوائزر فنانس ڈیپارٹمنٹ پاکستان۔مولانا حکیم محمد الدین صاحب قادیان۔مکرم عطاء اللہ صاحب۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) خطبات محمود جلد نمبر ۹ صفحیم ۸ (۳) الفضل ربوہ ۲ تا ۶ جولائی ۱۹۶۳ء