تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 177
177 ☆ ۱۲۴۔حضرت مولوی سلطان محمود صاحب میلا پور۔مدراس یعت : ۱۸۹۴ء۔وفات : دسمبر ۱۹۱۷ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی سلطان محمود رضی اللہ عنہ میلا پور مدراس کے رہنے والے تھے۔مدراس میں جب احمدیت کا چرچا ہوا اور حضور کے دعویٰ کی اطلاع پہنچی تو حضرت سلطان محمود صاحب بھی اس طرف متوجہ ہوئے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۴ء کی ہے۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی فرماتے ہیں۔وو۔۔۔۔سلطان محمود صاحب اور ان کے برادر زادہ اپنی جگہ پر باہم اس بارے میں بحث کرتے تھے اور آخر وفات عیسی پر دونوں کا اتفاق ہو گیا اور سلطان محمود صاحب نے مجھے خط لکھا اور حضور کی کتابوں کی خواہش ظاہر کی اس خط کے طرز تحریر سے یہ پتہ لگ گیا کہ حضور کی جانب ان کا حسن ظن ہے۔غرض میرے پاس جو کتا ہیں موجود تھیں وہ تو بھیج دیں اور آئینہ کمالات اسلام ایک مولوی کو دی تھی ان سے لینے کو لکھ دیا اور پھر بعد میں ملاقات کی اور میرے سے زیادہ ان کا میلان حضور کی طرف پایا اور اس وقت تک وفات عیسی پر مجھے کامل یقین نہ ہوا تھا مگر ان کا حضور کی طرف رجوع کرنا بڑی تقویت کا باعث ہو گیا اور قلیل عرصہ میں ایک چھوٹی سی جماعت طیار ہوگئی۔۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی فرماتے ہیں جب میں پہلی مرتبہ بمع حضرت مولوی حسن علی صاحب قادیان حضور کی بیعت اور زیارت کر کے تقریباً ایک مہینہ کے بعد مدراس پہنچا تو حضرت مولوی سلطان محمود صاحب نے بڑا ہی 66 اہتمام فرمایا تھا اسیشن سے سیدھا میلا پور لے گئے اور پر تکلف دعوت دی ساتھ ہی اس ناچیز کو ایک ایڈریس بھی دیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت مسیح موعود حضرت سیٹھ عبدالرحمن مدراسی صاحب کے نام مکتوبات میں حضرت سلطان محمود صاحب کو بھی سلام بھجواتے تھے۔کتاب البریہ میں حضرت اقدس نے اپنی پر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر کیا ہے۔وفات : آپ نے دسمبر ۱۹۱۷ء میں مدراس میں وفات پائی۔حضرت اقدس کے مکتوبات میں آپ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ماخذ : (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳(۲) مکتوبات احمد یہ جلد پنجم حصہ اول (۳) الفضل ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۷، صفحه ۲