تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 150
150 ☆ ۹۵ - حضرت رحمن شاہ صاحب ناگپور ضلع چاندہ۔روڈ ڈہ بیعت : ابتدائی زمانہ میں ره تعارف و بیعت : حضرت رحمن شاہ رضی اللہ عنہ ناگپور ضلع چاندہ روڈڑہ کے رہنے والے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعودؓ نے آپ کا نام چند احباب جماعت کی فہرست کتاب البریہ میں صفحہ ۲۳۴ پر درج فرمایا ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا نام ۳۱۳ اصحاب کی فہرست میں شامل ہے۔( نوٹ ) آپ کے تفصیلی سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) انجام آتھم روحانی خزائن جلدا۔☆ ۹۶ - حضرت میاں جان محمد صاحب مرحوم۔قادیان بیعت : ۱۴/جون ۱۸۸۹ء۔وفات: ۱۸۹۶ء تعارف و بیعت : حضرت میاں جان محمد رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام میاں ساگر صاحب تھا۔کشمیر کے رہنے والے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کا نام براہین احمدیہ (حصہ اول) کے مالی معاونین میں بھی درج فرمایا ہے۔آپ کی بیعت ۱۴ جون ۱۸۸۹ء کی ہے۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۹۸ نمبر پر درج ہے۔جہاں تعارف امام مسجد کلاں لکھا ہے۔بیت اقصیٰ حضرت اقدس کے والد ماجد نے انہیں امام الصلوۃ مقررفرمایا تھا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی تحریر فرماتے ہیں: میاں جان محمد صاحب کشمیری قادیان کی مسجد اقصیٰ کے امام ہوا کرتے تھے۔ہمارے دادا صاحب نے انہیں مقرر کیا ہوا تھا۔وہ ہمارے گھر کا کام کاج بھی کرتے تھے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحه ۴۱۳) حضرت میاں جان محمد صاحب حضرت صاحب کے پرانے دوستوں میں سے تھے۔اور حضور کے بعض سفروں میں ساتھ بھی رہے۔حضرت میر عنایت علی صاحب لدھیانوی ( بیعت ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء ) بیان کرتے ہیں۔” جب اول ہی اول حضور اقدس لدھیانہ تشریف لائے تھے تو صرف تین آدمی ہمراہ تھے۔میاں جان محمد صاحب و حافظ حامد علی صاحب اور لالہ ملا وامل صاحب۔۔۔۔۔غالباً تین روز حضور لدھیانہ میں ٹھہرے“ (سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر ۵۳۱)