اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 82
تاب بدر جلد 4 82 حضرت ابوعبیدہ کا یہ حلیہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا قد لمبا تھا، جسم نحیف تھا، دبلے پتلے تھے اور چہرے پر کم گوشت تھا۔سامنے کے دو دانت غزوۂ احد کے موقعے پر رسول اللہ صلی علم کے رخسار میں پھنسے ہوئے خود کے حلقوں کو نکالتے ہوئے ٹوٹ گئے تھے۔آپ کی داڑھی زیادہ گھنی نہ تھی اور آپ خضاب کا استعمال کیا کرتے تھے۔211 شادی اور اولاد حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے متعد د شادیاں کی تھیں مگر ان میں صرف دو بیویوں سے اولاد ہوئی۔آپ کے دو بیٹے تھے ایک کا نام یزید اور دوسرے کا نام تخمیر تھا۔212 عشرہ مبشرہ میں سے ایک حضرت ابو عبیدہ ان دس صحابہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ صلی الیم نے اپنی زندگی میں جنت کی بشارت دی تھی، جن کو عشرہ مبشرہ کہتے ہیں۔213 حضرت ابو عبیدہ کا شمار قریش کے باوقار ، با اخلاق اور باحیالوگوں میں ہوتا تھا۔قبول اسلام 214 حضرت ابو عبیدہ نے حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔اس وقت مسلمان ابھی دارِ ارقم میں پناہ گزیں نہیں ہوئے تھے اس سے پہلے کی بات ہے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا اسلام لانے میں نواں نمبر ہے۔215 میری امت کا امین حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور میری امت کے امین ابو عبیدہ بن جراح نہیں۔216 صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کے مطابق نجران کے لوگ جبکہ صحیح مسلم کی ایک اور روایت کے مطابق یمن کے لوگ آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو ہمیں دین سکھائے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے ساتھ شخص کو بھیجیں۔اس پر آنحضرت صلی الم نے فرمایا: میں ضرور تمہارے ساتھ ایک ایسے امین کسی امین ں کو بھیجوں گا جو اس کا حق ادا کرنے والا ہے۔اس پر آپ صلی علیکم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا هذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ۔یہ اس امت کا امین ہے۔217