اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 556
556 اصحاب بدر جلد 4 سامنے آیا تو میں ان کو پناہ دوں گا۔رسول اللہ صلی ا ہم نے ستر نوجوان جو قرآن کریم کے قاری کہلاتے تھے اس کے ساتھ بھجوائے اور حضرت مُنذر بن عمر و السَّاعِدِی کو ان پر امیر مقرر کیا۔پہلے بھی یہ واقعہ بیان ہو چکا ہے۔جب یہ لوگ بئر معونہ کے مقام پر پہنچے جو بنی سُلیم کا گھاٹ تھا اور بنی عامر اور بنی سُلیم کی زمین کے درمیان تھا یہ لوگ وہیں اترے، پڑاؤ کیا اور اپنے اونٹ وہیں چھوڑ دئے۔انہوں نے پہلے حضرت حرام بن ملحان کو رسول اللہ صلی علیکم کا پیغام دے کر عامر بن طفیل کے پاس بھیجا۔اس نے رسول اللہ صلی للی کم کا پیغام پڑھا ہی نہیں اور حضرت حرام بن ملحان پر حملہ کر کے شہید کر دیا۔اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف اس نے بنی عامر کو بلایا مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔پھر اس نے قبائل سلیم میں عُصَيَّہ اور ذکوان اور دغل کو پکارا۔وہ لوگ اس کے ساتھ روانہ ہو گئے اور اسے اپنار کیس بنالیا۔جب حضرت حرام کے آنے میں دیر ہوئی تو مسلمان ان کے پیچھے آئے۔کچھ دور جا کر ان کا سامنا اس جتھے سے ہوا جو حملہ کرنے کے لئے آرہا تھا۔انہوں نے مسلمانوں کو گھیر لیا۔دشمن تعداد میں بھی زیادہ تھے۔جنگ ہوئی اور رسول اللہ صلی علیم کے اصحاب شہید کر دئے گئے۔مسلمانوں میں حضرت سُلیم بن ملحان اور حکم بن کیسان کو جب گھیر لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! ہمیں سوائے تیرے کوئی ایسا نہیں ملتا جو ہمارا سلام تیرے رسول کو پہنچا دے۔لہذا تو ہی ہمارا سلام پہنچا۔جب رسول اللہ صلی علیہ ہم کو جبرئیل نے اس کی خبر دی تو آپ نے فرما یاوَ عَلَيْهِمُ السّلام ـ ان پر سلامتی ہو۔مُنذر بن عمر و سے ان لوگوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں امن دے دیں گے مگر انہوں نے انکار کیا۔وہ حضرت حرام کی جائے شہادت پر آئے۔ان لوگوں سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید کر دئے گئے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ وہ آگے بڑھ گئے تاکہ مر جائیں یعنی موت کے سامنے چلے گئے حالانکہ وہ اسے جانتے تھے۔259 با وجو د جنگ کا سامان پورانہ ہونے کے بڑی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور جنگ کی نیت سے گئے بھی نہیں تھے۔1260 152 حضرت سماک بن سعد اپنے بھائی کے ساتھ جنگ بدر میں شریک حضرت سماك بن سعد۔ان کے والد سعد بن ثعلبہ تھے۔آپ حضرت نعمان بن بشیر کے والد حضرت بشیر بن سعد کے بھائی تھے۔بدر میں اپنے بھائی حضرت بشیر کے ساتھ شریک ہوئے اور احد میں بھی شریک ہوئے تھے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔1261