اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page ix
اصحاب بدر جلد 2 ix پیش لفظ پیش لفظ جنگ بدر کو تاریخ اسلام میں ایک نمایاں اہمیت اور فضیلت حاصل ہے۔قرآن کریم نے اس دن کو ”یوم الفرقان“ کہہ کر اس کی تاریخی فضیلت کو دوام بخشا اور اس فضیلت اور عظمت کا تاج اپنے وفاشعار جاں نثار بدری صحابہ کے سروں پر سجاتے ہوئے آنحضرت صلی الیم نے ایک مرتبہ فرمایا تھا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يَكُونَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ اور تمہیں یہ کیا خبر کہ اللہ نے آسمان سے اہل بدر کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا کہ تم جو کچھ کرتے رہو میں تمہیں معاف کر چکا ہوں۔(بخاری) اس جنگ میں شامل ہونے والے 313 صحابہ خود بھی اپنے آخری سانسوں تک اس سعادت اور اعزاز پر خدا کا شکر بجالاتے ہوئے فخر کیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک مشہور مستشرق ولیم میور صاحب لکھتے ہیں: بدری صحابی اسلامی سوسائٹی کے اعلیٰ ترین رکن سمجھے جاتے تھے۔سعد بن ابی وقاص جب استی سال کی عمر میں فوت ہونے لگے تو انہوں نے کہا کہ مجھے وہ چوغہ لا کر دو جو میں نے بدر کے دن پہنا تھا اور جسے میں نے آج کے دن کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔یہ وہی سعد تھے جو بدر کے زمانہ میں بالکل نوجوان تھے اور جن کے ہاتھ پر بعد میں ایران فتح ہوا اور جو کوفہ کے بانی اور عراق کے گورنر بنے مگر ان کی نظر میں یہ تمام عزتیں اور فخر جنگ بدر میں شرکت کے عزت و فخر کے مقابلے میں بالکل پیچ تھیں اور جنگ بدر والے دن کے لباس کو وہ اپنے واسطے سب خلعتوں سے بڑھ کر خلعت سمجھتے تھے اور ان کی آخری خواہش یہی تھی کہ اسی لباس میں لپیٹ کر ان کو قبر میں اتارا جاوے۔“ (بحوالہ سیرت خاتم النبیین صفحہ 373) یہ خوش نصیب صحابہ کون کون تھے ؟ رہتی دنیا تک آسمان پر چمکنے والے یہ چاند ستارے کون تھے ؟؟ ان کے نام، ان کے والدین کے نام ان کے سوانح کیا تھے اور ان کی سیرت کے نمایاں کام اور کارنامے کیا کیا تھے۔ہمارے پیارے امام حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے