اصحاب احمد (جلد 9) — Page 101
1+1 نے ایک بلیغ فصیح ، پر معانی کلام عربی میں میری زبان پر جاری کی۔یہ کئی جز کی فی البدیہہ تقریر کتاب خطبہ الہامیہ میں درج ہے۔خدا نے اپنے الہام میں اس کا نام نشان رکھا کیونکہ وہ زبانی تقریر محض خدائی قوت سے ظہور میں آئی۔اس کے قریبا ڈیڑھ سو آدمی گواہ ہوں گے۔(حضور نے نو گواہان رؤیت کے اسماء درج فرمائے ہیں۔صفحہ ۲۱۰ و حاشیہ ) حضور رقم فرماتے ہیں کہ اکتوبر ۱۸۹۷ء میں مجھے دکھایا گیا ایک گواہی کے لئے ایک انگریز حاکم کے پاس حاضر کیا گیا ہوں لیکن جیسا کہ شہادت کے لئے دستور ہے مجھے قسم نہیں دی۔پھر خواب آیا کہ اس مقدمہ کا سپاہی سمن لے کر آیا ہے۔یہ خواب مسجد میں عام جماعت کو سنا دی گئی۔پھر سپاہی سمن لے کر آیا۔ایڈیٹر اخبار ناظم الھند لاہور نے مجھے گواہ لکھوایا تھا۔جس پر مولوی رحیم بخش پرائیویٹ سیکرٹری نواب بہاولپور نے لائیل کا مقدمہ ملتان میں کیا تھا۔چنانچہ عدالت میں حاکم کو ایسا سہو ہو گیا کہ وہ مجھے قسم دینا بھول گیا اور اظہار ( بیان لینے ) شروع کر دیئے۔(صفحہ ۲۲۱۔حاشیہ میں مرقوم ہے کہ اس نشان کے گواہ ایک گروہ کثیر ہے۔پانچ احباب کے اسماء حضور نے درج فرمائے ہیں۔) -۴- پیشگوئی نمبر ۹۸ میں حضور بیان فرماتے ہیں کہ ”ہمارے دوست مرزا ایوب بیگ صاحب ایک مدت سے بیمار تھے۔ان کی حالت بگڑ گئی۔میں نے دعا کی تو خواب دیکھا کہ ایک سڑک پر جو گویا چاند کے ٹکڑوں سے بنائی گئی ہے عزیز کو ایک شخص نہایت خوش شکل لئے جارہا ہے اور وہ سڑک آسمان کی طرف جاتی ہے۔تعبیر یہ تھی کہ ان کا خاتمہ بخیر ہوگا۔اور وہ بہشتی ہے۔اور نورانی چہرہ والا شخص ایک فرشتہ تھا۔یہ خواب ان کے بھائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو لکھ دیا تھا اور اپنی جماعت میں بھی شائع کر دیا تھا۔چنا نچہ چھ ماہ بعد اس عزیز نے وفات پائی۔وفات کا تار پہنچا تو تعزیتی خط لکھتے وقت الہام ہوا: مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہو“ (صفحہ ۲۲۲ و حاشیہ۔دس گواہان کے نام درج ہیں۔) -۵ پیشگوئی نمبر ۱۰۸۔حضور یہاں تحریر فرماتے ہیں کہ ہم چھوٹی مسجد ( یعنی مسجد مبارک۔ناقل ) میں آمد وخرچ کا حساب کر رہے تھے کہ کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ موجودہ تحصیلدار تبدیل ہوکر دوسرا تحصیلدار آ گیا ہے۔اور فتح کی بشارت ملی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پہلا تحصیلدار یکا یک تبدیل ہو گیا۔نئے تحصیلدار نے حقیقت پا کر رپورٹ کی جسے انگریز ڈپٹی کمشنر نے قبول کیا اور لکھا کہ مرزا غلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدظنی نہیں کر سکتے۔یعنی جو کچھ عذر کیا گیا ہے وہ واقعی درست