اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 205 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 205

205 پھینک دیتا اور مقدمہ خارج کر دیتا تھا۔" کچھ دنوں کے بعد افسر تعمیر نے فرمایا کہ میں رات کے کام کا انعام دینا چاہتا ہوں۔میں نے ان سے عرض کیا کہ اس صورت میں آپ مجھے محر رسوم کے گریڈ سے ترقی دے کر محر ر دوم کے گریڈ ۲۲۰-۳۰ میں مستقل کرا دیں۔چنانچہ میرے بارہ میں حسن کارگردگی کی رپورٹ پر صدر انجمن نے اس امر کی منظور فرما دی۔گویا قریباً سولہ ماہ کے اندراندر مجھے بارہ روپے ماہوار سے ہیں روپے ماہوار ملنے لگے۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ (1) محرر دوم کرنے پر مجھے پھر دفتر محاسب میں تبدیل کر دیا گیا جہاں محر ر اول حضرت منشی مرزا محمد اشرف صاحب تھے۔میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے خزانہ کا کام سکھا دیں۔مرزا صاحب موصوف مجسم خدمت خلق اور خیر خواہ تھے فرمایا آپ کام سیکھ لیں۔ہر کام اپنے ہاتھ سے کرنے سے آیا کرتا ہے۔اس لئے دفتر کا اپنا فرض منصبی پورا کرو اور ساتھ خزانہ کا بھی کچھ کام کرو۔میں فرض منصبی کا کام رات کو یا دن کو جب وقت ملتا کرتا اور دن کے وقت عام طور پر خزانہ کا کام کرتا اور پھر منشی صاحب روزانہ میرا کام دیکھ کر اصلاح فرماتے ، جب میں خزانہ کا کام اچھی طرح سیکھ گیا تو کچھ عرصہ کے بعد صدر انجمن نے منشی صاحب کو محاسب کے عہدے پر مقرر فر مایا اور مجھے تین ماہ کے لئے عارضی طور پر محر ر اول کا قائم مقام بنا کر کہا گیا کہ تین ماہ کے بعد میرا کام دیکھ کر مجھے مستقل محرر اول کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ تین ماہ گزرنے پر خود سیکرٹری مجلس نے ایک دن اچانک صبح آکر میرا کام دیکھا تو اسے تسلی بخش پایا اور مجھے محر ر اول کر دیا گیا۔مگر میرے الاؤنس اور گریڈ محرر اول میں جو ۳۰-۳-۴۵ تھا بہت فرق تھا۔مجلس نے فیصلہ فرمایا کہ میں اپنے محرر دوم کے گریڈ کو دگنی ترقی سے طے کروں چنانچہ اسی طرح عمل میں آیا۔“ تحریک چندہ خاص کی کامیابی صدر انجمن نے ۱۹۲۳ء میں مجھے دفتر نظارت بیعت المال میں تبدیل کر دیا۔جہاں حضرت مولوی عبدالمغنی خاں صاحب ناظر تھے۔غالباً ۱۹۳۰ء میں صدر انجمن کی مالی حالت بہت نازک ہوگئی تو سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک تحریک خاص چندہ کی فرمائی۔اس پر حضرت مولوی صاحب مرحوم نے خاکسار کو فرمایا کہ اس تحریک کو کامیاب کرنے میں پوری کوشش سے کام کیا جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں اور ہدایات کے ساتھ تحریک کامیاب ہوگئی۔“ فنانشل سیکرٹری کشمیر ریلیف فنڈ 66 ۱۹۳۱ء میں سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کشمیر کمیٹی کے صدر مقرر ہوئے اور سیکرٹری حضور نے حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد کو مقر فر ما یا شاید حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب نے