اصحاب احمد (جلد 7) — Page 101
101 پیشگوئی کا الہام ہو جو میرے سامنے ہو اور وہ پیشگوئی میرے روبرو پوری بھی ہو جائے۔اسی روز جب آسمان صاف تھا اور بارش کا نام ونشان نہ تھا حضور کو الہام ہوا۔ے سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہوگی، (98) چنانچہ اسی روز شام کو بارش ہوئی اور دوسرے یا تیسرے روز زلزلہ بھی آیا (*) (۱۴) ایک پیشگوئی کے گواہ:۔کتاب نزول مسیح میں حضرت مسیح موعود بیان فرماتے ہیں کہ اهِدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صَرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں انعامات کی امید دلائی گئی ہے جن میں سے بزرگ تر انعام وحی الہی کا انعام ہے کیوں کہ گفتا ر الہی قائم مقام دیدار الہی ہے۔ہمیشہ یقین خدا کے تازہ مکالمہ سے تازہ پیدا ہوتارہتا ہے اور جس شریعت کو خدا تعالیٰ منسوخ کر دیتا ہے اس شریعت کی پیروی کرنے والوں کے دل ممسوخ ہو جاتے ہیں اور ان میں کوئی باقی نہیں رہتا جس پر تازہ کلام وارد ہو۔ایسا کلام الہی زمانہ کے لئے تازہ طور پر اُترتا ہے اور اپنی طبعی خاصیت سے ملہم اور اس کے ہم نشینوں پر ثابت کرتا ہے کہ میں یقینی طور پر خدا کا کلام ہوں اس میں ایک خارق عادت شوکت ہوتی ہے ایک لذت ہوتی ہے۔اکثر سلسلہ سوال و جواب ہوتا ہے۔اور جواب پانے کے وقت بندہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے الہام کبھی ایسی زبانوں میں بھی ہوتا ہے جسے ملہم نہیں جانتا۔سچا الہام غلطیوں سے نجات دیتا ہے اس میں ایک خدائی کشش ہوتی ہے۔جو ہم کو عالم تفرید و انقطاع کی طرف کھینچتی ہے سچا الہام تقویٰ کو بڑھاتا ہے اور قرآن مجید کے مخالف نہیں ہوتا۔آخر پر حضور نے بطور نمونہ اپنے الہامات میں سے وہ حصہ جو خوارق اور پیشگوئیوں پر مشتمل “ ہے مع اسماء گواہان رقم فرمایا ہے جن کو قبل از وقت اطلاع دی گئی تھی۔پیشگوئی نمبر ۸ کے نو گواہوں کے اسماء میں آپ کا نام "ماسٹر عبدالرحمن صاحب درج ہے گواہوں میں جن کو قبل از وقوع پیشگوئی بتائی گئی تھی حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے اسماء مرقوم ہیں حضور اس پیشگوئی کے بیان کرنے کی تاریخ اور اپریل ۱۹۰۰ ء درج کر کے تحریر فرماتے ہیں۔یہ الہام ۲۸ فروری ۱۹۰۷ء کو ہوا تھا۔ظہر کے بعد اور رات کو بارش ہوئی اور ۲ مارچ کے بعد کی رات کو زلزلہ بھی آیا چنانچہ اخبارات نے زلزلہ کی خبر شائع کی قادیان میں حاضر ایسے احباب سے دستخط لئے گئے تھے جنہوں نے یہ الہام پورا ہونے سے پہلے سنا تھا چنانچہ ان کے اسماء تتمہ حقیقت الوحی میں درج ہوئے ہیں (ص ۵۵ تا ۵۸) وہاں صرف عبدالرحمن نام بھی دو بار درج ہے۔ممکن ہے ماسٹر صاحب بھی ایک جگہ مراد ہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ الہام سننے والے تمام افراد جن کے دستخط لئے گئے ان کے اسماء درج ہو چکے ہوں۔