اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 303 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 303

۳۰۷ اذكرُوا ذكر مَوْتاكُم بالخير نظمت هذه المرثية في بلدة فشاور حين نُعيتُ بوفات سيدى حضرة مولانا المولوى السيد محمد سرور شاه رضی الله تعالى عنه و رفع درجاته في الجنة الرفيعة العليّة بقلم احقر عباد اللہ ابو البرکات غلام رسول را جیکی نوٹ:۔حضرت مولانا راجیکی صاحب مدظلہ العالی نے یہ نظم ارتجالاً تحریر فرمائی۔اشاعت سے قبل بوجہ بیماری نظر ثانی نہیں کروائی جاسکی۔(مؤلف) -۲۱ بامرِ اللَّهِ مَا نَزَلَ القَضَاءُ بقدر الله حَلّ الابتلاء وَإِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ وَلِلنَّاسِ الْعَطَاءُ وَالْبَلاءُ قضاء اللہ کے حکم سے نازل ہوئی اور اللہ کی قدر کے ماتحت ابتلاء بھی آیا۔صبر اللہ تعالیٰ کے حضور بہر حال بہتر ہے لوگوں کو عطاء بھی حاصل ہوتی ہے اور بلاء بھی حاصل ہوتی ہے۔لعبد مؤمن صبر و اجر من الله الـقـضــاء لــه الـرضــاء مومن انسان پر صبر فرض ہے جس کے نتیجہ میں اجر حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے قضاء آئے تو مومن کی شان ہے کہ اس پر راضی ہو۔سمعنا قد توفى شيخ قوم وسيدنا التقى المُجْتَبَاء ہم نے حضرت شیخ قوم کی وفات کی خبر سنی اور وہ ایک چیدہ متقی اور سید تھے۔لقد فَزِعَتْ قلوب عند نعي وهاج بذكر رحلته البكاء -۵ -Y موت کی خبر سے دل دہل گئے اور ان کی رحلت سے آہ و بکاء کا دریا اُمڈ آیا۔بحــزن الـقـلـب مـع عـيـن حـزن بلوعة فرقة نار وماء غم رسیدہ آنکھیں غمگین اور سوگوار دل کے ساتھ آنسو بہاتی ہیں۔فرقت اور جدائی کی جلن اپنے اندر آگ اور پانی کو جمع رکھتی ہیں۔