اصحاب احمد (جلد 5) — Page 139
۱۴۳ -1 -٣ -۵ -4 کمر متصل گول کمره تفصیل مشرقی ڈیوڑھی جہاں اکبر خاں صاحب دربان تھے اور اسی جگہ مع اہل عیال رہائش رکھتے تھے۔کمرہ جو گلابی کمرہ کے نام سے معروف تھا۔اس میں مرزا خدا بخش صاحب ملازم حضرت نواب محمد علی خانصاحب رہائش رکھتے تھے۔ہمارے عرصہ قیام کے وقت مرزا صاحب اور ان کے اہل وعیال قادیان میں نہیں تھے۔اس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب مع اپنی اہلیہ محترمہ و بچگان منظور احمد و عبد السلام وسعیدہ بیگم رہائش پذیر ہوئے۔مفتی صاحب کی صاحبزادی سعیدہ بیگم ۱۹۰۵ء میں بڑے باغ میں پیدا ہوئی تھیں۔مغربی ڈیوڑھی جس میں اس وقت قدرت اللہ خاں صاحب دربان تھے اور اسی ڈیوڑھی میں مع اہل و عیال مقیم تھے۔کمرہ جس میں اس وقت بوجہ طاعون حضرت مولوی صاحب اور مجھے رہائش کے لئے جگہ لی۔۔اس کا برآمدہ ہے۔اس کمرہ میں سے بالا خانہ میں بیت الدعاوالے دالان کو سیڑھی جاتی ہے۔نوٹ : جنوبی حصہ دالان کے متعلق فرماتی ہیں کہ ان دنوں عام طور پر مہمانوں کے لئے مخصوص تھا۔چنانچہ سید ولی اللہ شاہ صاحب کی والدہ نے بھی اس میں قیام کیا تھا۔بقیہ حاشیہ: پادریوں وغیرہ سے بہت احسان اور مروت کی گئی تو انہوں نے متحیر ہوکر باعث پوچھا تو بتایا گیا کہ ہمارے نبی کریم نے فرمایا تھا کہ وہاں ہمارا رشتہ ہے اس کو سن کر بڑے پادری نے کہا کہ اتنے دور دراز رشتے کا خیال سوائے ایک نبی کے اور کوئی رکھ نہیں سکتا۔اس لئے وہ مسلمان ہو گیا۔مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے جب کہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگوں کو اپنے باپ دادا کے نام سے بھی اطلاع نہیں ہوتی۔شادی کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے سلوک کیا جاوے۔جب انسان شادی کرتا ہے تو سالہ سالی اور بیوی کے دوسرے خویش واقارب کا اسے خیال رکھنا پڑتا ہے۔ان سب کے ساتھ احسان اور نیکی