اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 71 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 71

اے والسلام کے ساتھ اپنے تعلق کا ایک واقعہ سنایا۔فرمانے لگے۔ایک دفعہ میں قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطوط کے جوابات دینے پر مامور تھا۔حضور ہر روز کی ڈاک مجھے دے دیتے۔میں خود ہی ان خطوط کو پڑھتا اور خلاصہ حضور کو سنا دیتا۔حضور جو جواب لکھواتے میں وہ لکھ کر بھیج دیتا۔ایک دن ڈاک میں ایک خط آیا۔اس پر لکھا ہوا تھا کہ اس خط کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوائے کوئی نہ کھولے۔میں نے وہ خط حضور کے سامنے رکھ دیا۔حضور نے فرمایا کہ منشی صاحب کیا ہے۔میں نے عرض کیا اس خط پر لکھا ہوا ہے کہ سوائے حضرت کے اس خط کو کوئی نہ کھولے۔اس لئے حضور ہی اس کو کھول کر پڑھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خط مجھے واپس دیتے ہوئے فرمایا۔منشی صاحب آپ ہی اس کو پڑھیں۔ہم اور آپ کوئی دو ہیں۔اتنا واقعہ بیان فرما کر حضرت منشی صاحب رونے لگ گئے اور روتے روتے فرمایا کہاں خدا کا پیارا مسیح اور کہاں یہ گنہگار۔اور نوازش یہ کہ مجھے فرمایا ”ہم اور آپ کوئی دو ہیں۔“ میخانہ احمدیت کے یہ پرانے بادہ کش ایک ایک کر کے اٹھتے جا رہے ہیں۔اور اس میخانہ کا موجودہ ساقی ہر میخوار کی وفات پر دل پکڑ کر رہ جاتا ہے اور درد اور محبت سے بھرے الفاظ میں ان کا ذکر کر کے اپنے اور اپنے وابستگان دامن کے دلوں کو تسلی دے لیتا ہے۔۔جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی‘۳۷