اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 42 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 42

۴۲ صاحبزادے میاں عبدالمجید خاں صاحب۔منشی فیاض علی صاحب اور منشی عبدالرحمن صاحب۔میاں نظام الدین صاحب نے بھی چندہ لکھوایا۔چنانچہ منشی حبیب الرحمن صاحب نے تھیں روپے سالانہ۔مولوی محمد حسین صاحب نے دوروپے سالانہ اور باقی احباب نے تین تین روپے سالانہ۔سیدنا حضرت اقدس نے تحریر فرمایا کہ ۱۸۹۱ء کے جلسہ سالانہ میں صرف ۷۵ افراد نے شرکت کی تھی۔اور جب بڑی تکلیف برداشت کر کے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے میرے خلاف کفر کا فتویٰ تیار کیا تو ۳۲۷ کی تعداد میں احباب نے شرکت کی۔یہ خدا تعالیٰ کی عظیم الشان قدرتوں کا نشان ہے۔کہ بٹالوی صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کی کوششوں کا الٹا نتیجہ نکلا ہی سے ایک طرف ایسے کفر باز لوگ تھے اور دوسری طرف حضرت اقدس کے دامن سے وابستہ ایسے پاکباز سچ ہے۔گر نبودی در مقابل روئے مکروہ کس یکے از ۳۱۳ صحابہ روسیاه دانتے جمال شاہد گلفام را حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں کہ : شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ء میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں۔در اربعین آمده است که خروج مهدی از قریه کدعه باشد قال النبی اس جلسہ سالانہ میں کپورتھلہ کے انیس احباب نے شرکت کی تھی۔حضور کے خسر حضرت میر ناصر نواب صاحب نے بھی شرکت کی۔وہ بیان فرماتے ہیں کہ میری کدورت دور ہو گئی۔اس جلسہ میں تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا۔مرزا صاحب کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے اس لئے آسمان سے قبولیت اتری۔مولف اصحاب احمد